اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

انتخابات کے لئے مسئلہ نوٹوں کی کمی نہیں ووٹوں کی کمی ہے‘تحریک انصاف

datetime 28  اپریل‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ انتخابات کے لئے مسئلہ نوٹوں کی کمی نہیں ووٹوں کی کمی ہے،پاکستان میں عوام کو طاقت کا مرکز تسلیم کرکے انتخابات کی طرف جانا مذاکرات کا بنیادی نکتہ ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’’عمران خان ہماری ریڈ لائن‘‘ کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا سیشن جج کے بارے میں ایک جملہ کے ہم آپ کے خلاف کاروائی کریں گے اس پر پرچہ کٹ گیا، وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے۔ حکومتی ارکان سپریم کورٹ کے ججوں بشمول چیف جسٹس کے بدترین حملے اور دھمکیاں دے رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ان لاڈلوں اور لاڈلیوں کو کھلی چھٹی کیوں؟۔انہوں نے کہا کہ ایک ماہ میں 500سے زائد تحریک انصاف کے چاہنے والوں کی گرفتاری صرف اسلام آباد میں، ان میں بزرگ ، عورتیں، بچے شامل۔ جتنا ان کا خوف بڑھتا گیا ہے اتنا ان کا ظلم۔پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر سے بے گناہ شہریوں کو گرفتار کیا گیا ۔حکومت سے مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہونا چاہئے جب تک ان بے گناہ لوگوں کو حراست سے چھوڑا نہ جائے ۔اسد عمر نے مزید کہا کہ حکومت کہتی ہے کے الیکشن کروانے کے لئے 21ارب نہیں ہیں۔ جب کے اس مالی سال کے پہلے 8ماہ میں 515ارب کے اخراجات جو بجٹ میں نہیں تھے ان کی منظوری دے چکے ہیں۔

اس میں سے 349ارب مد میں تبدیلی کر کے اور 166ارب کے اضافی گرانٹ شامل ہیں۔ مسئلہ نوٹوں کی کمی نہیں ووٹوں کی کمی ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سینئر نائب صدر فواد چودھری نے کہا کہ پاکستان میں عوام کو طاقت کا مرکز تسلیم کرکے انتخابات کی طرف جانا مذاکرات کا بنیادی نکتہ ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے کہا کہ ہم سب کو ایک دوسرے کا نکتہ نظر سمجھ کر ملک کے لئے آگے بڑھنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…