جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پراسیکیوشن کے موقف کو نا قابل تردید سچ نہیں سمجھتے شہباز شریف کی درخواست ضمانت کا تفصیلی تحریری فیصلہ جا ری

datetime 8  مئی‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی درخواست ضمانت کا تفصیلی تحریری فیصلہ جا ری کردیا۔تفصیلی تحریری فیصلہ 27 صفحات پر مشتمل ہے ۔ تحریری فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس عالیہ نیلم پر مشتمل فل بنچ نے جاری کیا ۔تینوں ججز نے جسٹس سرفراز ڈوگر کے شہباز شریف کی ضمانت کے

فیصلے سے اتفاق کیاکیا۔جسٹس اسجد جاوید گورال نے ضمانت سے اختلاف کیا تھا۔تحریر ی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دو ججز کی مختلف رائے کسی بھی جرم کو مشکوک قرار دیتی ہے ۔معاملہ مشکو ک ہو جائے تو شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے ۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عوامی نمائندے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔کرپٹ کو ذمہ داری سونپی جائے تو عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے ۔ عوامی نمائندے کا عزت ، احترام اور تکریم کا حامل ہونا لازم ہے ۔عوامی نمائندہ سو فیصد مسٹر کلین ہونا چاہیے ۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت اپنی حدود میں رہتے ہوئے کیسز تک محدود ہے ۔ موجودہ وقت میں ہم اخلاقیات سے رہنمائی اور مدد لیتے ہیں ۔ پراسیکیوشن کے موقف کو نا قابل تردید سچ نہیں سمجھتے ۔ پراسیکیوشن نے کیس 110گواہوں کے ذریعے ثابت کرنا ہے ۔درخواست بری ہوتے ہیں تو جو وقت جیل میں گزارا اس کا ازالہ ممکن نہیں۔تحریری فیصلے میں مزید کہا کہ شہباز شریف پر زائد اثاثے رکھنے کا الزام ہے ، زائد اثاثوں کا دستاویزی ثبوت ریفرنس میں نہیں لگایا گیا ،ذرائع آمدن جاننے کے لئے بھی کھوج نہیں لگائی گئی،

شہباز شریف کے نام پر ٹیلی گرافک ٹرانسفر بھی دستیاب نہیں۔بے نامی ثابت کرنے کے لیے شخص کا خاندان کے افراد پر مالی لحاظ سے منحصر ہونا ضروری ہے، اثاثے نہ تو شہباز شریف کے نام پر ہیں اور نہ ان کے نام پر ایف ٹی ٹیز آئیں،نیب کے مطابق شہباز شریف ماڈل ٹائون رہائشگاہ کے مالک اور قابض ہیں جبکہ گھر نصرت شہباز کے نام پرہے،ماڈل ٹائون رہائش گاہ پر دونوں کا قبضہ ہے،نیب کے

مطابق شہباز شریف کے اثاثے 269 ملین ہیں لیکن استغاثہ نے ثبوت ساتھ نہیں لگائے،شہباز شریف کے اکاونٹس میں پیسوں کے آنے کا عنصر موجود نہیں۔ تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہماری جمہوریت کہ یہ ی بنیاد ہے کہ جب کسی سیاسی شخصیت پر کرپشن کے الزام لگے تو وہ سیاسی نقصان برداشت کرنے کا بھی پابند ہو، عدالت اپنی حدود میں رہتے ہوئے قانون کے مطابق کیسز تک محدود

ہے، موجود وقت میں ہم اخلاقیات سے رہنمائی اور مدد لیتے ہیں، جب کسی فرد کی آزادی کا معاملہ آئے تو ہم پھر بنیادی اصولوں کے تحت ضمانت دینے یا خارج کرنے پابند ہیں۔کسی کے خلاف الزام کو ثابت کرنا استغاثہ کا کام ہے،نیب نے تسلیم کیا ہے کہ اپنے خاندان کے نام پراثاثے بنوانے کے لیے شہباز شریف پر کسی سے کک بیکس لینے کا الزام نہیں،اسکی تفصیل خاندان کے دوسرے افراد دیں گے لیکن ہم صرف شہباز شریف کا کیس سن رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…