جمعرات‬‮ ، 23 جولائی‬‮ 2026 

پراسیکیوشن کے موقف کو نا قابل تردید سچ نہیں سمجھتے شہباز شریف کی درخواست ضمانت کا تفصیلی تحریری فیصلہ جا ری

datetime 8  مئی‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی درخواست ضمانت کا تفصیلی تحریری فیصلہ جا ری کردیا۔تفصیلی تحریری فیصلہ 27 صفحات پر مشتمل ہے ۔ تحریری فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس عالیہ نیلم پر مشتمل فل بنچ نے جاری کیا ۔تینوں ججز نے جسٹس سرفراز ڈوگر کے شہباز شریف کی ضمانت کے

فیصلے سے اتفاق کیاکیا۔جسٹس اسجد جاوید گورال نے ضمانت سے اختلاف کیا تھا۔تحریر ی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دو ججز کی مختلف رائے کسی بھی جرم کو مشکوک قرار دیتی ہے ۔معاملہ مشکو ک ہو جائے تو شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے ۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عوامی نمائندے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔کرپٹ کو ذمہ داری سونپی جائے تو عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے ۔ عوامی نمائندے کا عزت ، احترام اور تکریم کا حامل ہونا لازم ہے ۔عوامی نمائندہ سو فیصد مسٹر کلین ہونا چاہیے ۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت اپنی حدود میں رہتے ہوئے کیسز تک محدود ہے ۔ موجودہ وقت میں ہم اخلاقیات سے رہنمائی اور مدد لیتے ہیں ۔ پراسیکیوشن کے موقف کو نا قابل تردید سچ نہیں سمجھتے ۔ پراسیکیوشن نے کیس 110گواہوں کے ذریعے ثابت کرنا ہے ۔درخواست بری ہوتے ہیں تو جو وقت جیل میں گزارا اس کا ازالہ ممکن نہیں۔تحریری فیصلے میں مزید کہا کہ شہباز شریف پر زائد اثاثے رکھنے کا الزام ہے ، زائد اثاثوں کا دستاویزی ثبوت ریفرنس میں نہیں لگایا گیا ،ذرائع آمدن جاننے کے لئے بھی کھوج نہیں لگائی گئی،

شہباز شریف کے نام پر ٹیلی گرافک ٹرانسفر بھی دستیاب نہیں۔بے نامی ثابت کرنے کے لیے شخص کا خاندان کے افراد پر مالی لحاظ سے منحصر ہونا ضروری ہے، اثاثے نہ تو شہباز شریف کے نام پر ہیں اور نہ ان کے نام پر ایف ٹی ٹیز آئیں،نیب کے مطابق شہباز شریف ماڈل ٹائون رہائشگاہ کے مالک اور قابض ہیں جبکہ گھر نصرت شہباز کے نام پرہے،ماڈل ٹائون رہائش گاہ پر دونوں کا قبضہ ہے،نیب کے

مطابق شہباز شریف کے اثاثے 269 ملین ہیں لیکن استغاثہ نے ثبوت ساتھ نہیں لگائے،شہباز شریف کے اکاونٹس میں پیسوں کے آنے کا عنصر موجود نہیں۔ تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہماری جمہوریت کہ یہ ی بنیاد ہے کہ جب کسی سیاسی شخصیت پر کرپشن کے الزام لگے تو وہ سیاسی نقصان برداشت کرنے کا بھی پابند ہو، عدالت اپنی حدود میں رہتے ہوئے قانون کے مطابق کیسز تک محدود

ہے، موجود وقت میں ہم اخلاقیات سے رہنمائی اور مدد لیتے ہیں، جب کسی فرد کی آزادی کا معاملہ آئے تو ہم پھر بنیادی اصولوں کے تحت ضمانت دینے یا خارج کرنے پابند ہیں۔کسی کے خلاف الزام کو ثابت کرنا استغاثہ کا کام ہے،نیب نے تسلیم کیا ہے کہ اپنے خاندان کے نام پراثاثے بنوانے کے لیے شہباز شریف پر کسی سے کک بیکس لینے کا الزام نہیں،اسکی تفصیل خاندان کے دوسرے افراد دیں گے لیکن ہم صرف شہباز شریف کا کیس سن رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…