موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ ڈی جی محکمہ موسمیات نے موسم کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کردیا

  منگل‬‮ 23 مارچ‬‮ 2021  |  13:46

اسلام آباد، کالام، بہاولپور (مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی)محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد حنیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ہر سیزن میں بارش کے پانچ سپیل ہوتے ہیں جبکہ موجودہ بارشیں اس سیزن کا دوسرا سپیل ہیں۔ ان کے مطابق یہ بارشیں بارانی علاقوں میں گندم کی فصلوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوئی ہیں۔تاہم ان کے مطابق وسطی پنجاب اورجنوبی پنجاب میں ان بارشوں سے فصلوں کے نقصان کے امکانات بھی ہیں کہ ان علاقوں میں تیز ہوائوں کے علاوہ ژالہ باری بھی ہوئی ہے۔ڈاکٹر حنیف کے مطابق حالیہ بارشیں پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا


کے سو فیصد علاقوں میں ہوئی ہیں جبکہ پنجاب میں 70 سے 80 فیصد یہ بارش برسی ہے۔ اندرون سندھ، بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت مجموعی طور پر یہ بارشیں ملک کے 70 فیصد علاقوں میں ہوئی ہیں۔ڈاکٹر حنیف کے مطابق ان بارشوں سے ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولن میں نمایاں کمی واقع ہو گی جبکہ ایسے موسم میں کورونا وائرس کی منتقلی کی رفتار بھی تھم جاتی ہے۔بارشو ں کا سلسلہ کل رات تک جاری رہ سکتا ہے، دوسری جانب کالام کے علاقے لائیکوٹ میں گلیشئر گرنے سے بحرین کالام روڈ ہر قسم کی آمدورفت کیلئے بند ہو گیا۔سڑک بند ہو نے سے مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کو بھی مشکلات کا سامنا کر نا پڑا، سوات کے میدانی علاقوں میں تین روزسے وقفے وقفے سے بارش اور کالام اورمالم جبہ میں وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری رہا ،بارش و برفباری کے بعد سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا ۔دوسری جانب بہاولپور کے ڈسٹرکٹ حاصل پور کے قریب پیٹرول پمپ پر آسمانی بجلی گرنے کے سبب آگ گئی ۔ریسکیو ذرائع کے مطابق پیٹرول پمپ پر گرنے والی آسمانی بجلی کے سبب آگ لگنے سے لاکھوں روپے کا پیٹرول جل گیا اور عمارت شدید متاثر ہوئی ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق کئی گھنٹوں بعد آگ پر قابو پا لیا گیا ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎