پی ٹی آئی نے تسلیم کیا جو پیسہ ملازمین کے اکاؤنٹ میں آیا اسکا ریکارڈ ہی نہیں، یہ چاہتے ہیں میں اس کیس سے الگ ہو جاؤں، اکبر ایس بابر بینک اکاؤنٹس کی رسیدیں نہ دینے پر پھٹ پڑے

  جمعرات‬‮ 18 مارچ‬‮ 2021  |  20:11

اسلام آباد (این این آئی)پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کیلئے قائم سکروٹنی کمیٹی نے اکبر ایس بابر کو رسیدیں فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ جمعرات کو پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کیلئے قائم سکروٹنی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی کے خلاف درخواست گزار اکبر ایس بابر سکروٹنی کمیٹی میں پیش ہوئے،درخواست گزار اکبر ایس ابر نے سکروٹنی کمیٹی سے بینک اکاؤنٹس کی رسیدیں فراہم کرنے کی درخواست کی،سکروٹنی کمیٹی نے اکبر ایس بابر کو رسیدیں فراہم کرنے سے انکار کردیا۔درخواست گزار اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو


کرتے ہوئے کہاکہ سکروٹنی کمیٹی کا ایک اور اجلاس تھا، پاکستان تحریک انصاف نے کمیٹی میں اس بات کو تسلیم کیا کہ جو پیسہ ملازمین کے اکاؤنٹ میں آیا اسکا ریکارڈ ہی نہیں، ہم نے کہا تمام ملازمین کے اکاؤنٹ سٹیٹ بینک کے ذریعے حاصل کریں،کمیٹی تیسری مرتبہ ایک ہی موضوع پر بحث کرتی رہی، جب پیسہ ملازمین کے اکاؤنٹ میں اور پی ٹی آئی تسلیم کرتی ہے تو اسکی تحقیقات ہونی چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ ابھی بھی کمیٹی نے فیصلہ نہیں کیا، کمیٹی نے اگلی تاریخ کا بھی اعلان نہیں کیا،سپریم کورٹ میں ان کے مطابق میں پی ٹی آئی کا ممبر نہیں ہوں، ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق میں پی ٹی آئی کا ممبر ہوں، میں ہمیشہ پاکستان تحریک انصاف کا ممبر رہوں گا، انکا مقصد ہے کہ اکبر ایس بابر اس کیس سے الگ ہو، اکبر ایس بابر اگر اس کیس سے نکل جاؤ تو کون چلائے گا اس کیس کو، مجھے لگتا ہے اب وہ گھبرا گئے ہیں، الیکشن کمیشن میں عمران خان کی ملزم کی حیثیت ہے، ساتواں سال ہے یہ اس کیس کا،عمران خان پر آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ آئینی اداروں کی عزت کرے،الیکشن کمیشن اسٹیٹ بینک کے ذریعے اکاؤنٹس معلوم کرے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎