منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

سینیٹ انتخاب میں ٹکٹ نہیں نقد رقم چلی جو 10 کروڑ سے کہیں زیادہ تھی، تقریباً 20 لوگوں کو ادائیگی کی گئی،آصف زرداری بڑی گیم کھیل گئے، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 7  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن )وزیر داخلہ شیخ رشید نے انکشاف کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں تحریک اعتماد کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 3 اراکین قومی اسمبلی کے لاپتا ہونے پر شور مچا ہوا تھا۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ جس دن قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کو اعتماد

کا ووٹ لینا تھا اْس صبح ہمارے 3 اراکین قومی اسمبلی لاپتا تھے جس پر شور شرابا پڑا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میں قومی اسمبلی 11 بجے پہنچا تب تک ان تینوں اراکین قومی اسمبلی کی موجودگی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا تھا۔ سینیٹ انتخاب میں حکومتی امیدوار کی ناکامی پر شیخ رشید نے اعتراف کیا کہ ’ہم نے سینیٹ کے انتخاب کو ہلکا لے لیا تھا جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری بڑا گیم کھیل گئے‘۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخاب میں ٹکٹ نہیں بلکہ نقد رقم چلی جو 10 کروڑ سے کہیں زیادہ تھی اور تقریباً 20 لوگوں کو ادائیگی کی گئی۔شیخ رشید نے بتایا کہ چند لوگوں نے سینیٹ انتخاب میں حفیظ شیخ کو ووٹ نہیں دی لیکن وہ بطور وزیر خزانہ اپنے فرائض جاری رکھیں گے۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ ڈاکٹر حفیظ شیخ سندھ سے الیکشن لڑنے کے خواہش مند تھے لیکن وزیر اعظم عمران خان نے انہیں اسلام آباد سے امیدوار کھڑا کیا۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے بتایا کہ اسد عمر کو بطور وزیر خزانہ نکالنے میں فوج کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو میں اسد عمر کا مقدمہ 7 ماہ تک نہیں لڑتا۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اسد عمر نے قدرے جذباتی رویہ اختیار کیا اور عہدے سے مستعفی ہونے کی پریس کانفرنس بھی کردی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’16 لوٹوں (اراکین اسمبلی) کے خلاف

کارروائی کا فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کریں گے لیکن تاحال ایسا موسم نہیں یا کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر 20 افراد کو بے دخل کرتے ہیں تو حکومت کھڑی نہیں رہے گی اور چور (اپوزیشن جماعتیں) اوپر آجاتی ہیں شیخ رشید نے کہا کہ فوج یا ایجنسیوں نے سینیٹ انتخاب میں کوئی

کردار ادا نہیں کیا۔انہوں چیف آف آرمی اسٹاف کا حوالہ دے کر بتایا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپوزیشن کے رہنماؤں کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ اگر آپ میں سے کوئی بھی منتخب ہوکر حکومت میںآ ئے گا تو فوج بھرپور ساتھ دے گی۔ وزیر داخلہ نے رائے دی کہ ’آئندہ انتخابات میں پی ٹیآئی مذہبی جماعت کے ساتھ اتحاد

کرسکتی ہے، میں نے ٹی ایل پی کو کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کریں‘۔انہوں نے کہا کہ ہم انہیں اسمبلی میں لے کرآئیں گے اور ختم نبوت سے متعلق جو مطالبات ہیں وہ پارلیمنٹ فورم پر دیکھے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے تناظر میں اسے فیصلے کا جائزہ لینا ہوگا۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ’میں سوچ رکھتا

ہوں کہ الیکشن کمیشن کے اوپر زیادہ نزلہ نہیں گرانا چاہیے جبکہ الیکشن کمشنر کو سخت بیان دینے سے گریز کرنا چاہیے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری صفوں سے بھی سخت بیان دینے کی ضرورت نہیں تھی اس لیے میں نے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ملاقات بھی کی‘۔ پی ڈی ایم کے 26 مارچ کو لانگ مارچ سے متعلق سوال کے

جواب میں شیخ رشید نے بتایا کہ سول نافرمانی جیسے فیصلوں پر قانون حرکت میں آجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈی چوک پر لانگ مارچ کے شرکا کی آمد سے متعلق فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔شیخ رشید نے اقرار کیا کہ اب اپوزیشن کا رخ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی طرف ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی عثمان بزدار سے مطمئن

ہیں یا نہیں مجھے نہیں معلوم لیکن وہ دونوں وزیراعلیٰ کے ساتھ چلیں گے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک سوال کے جواب میں مذاکرات کے لیے راستہ کھلا رکھنے پر زور دیا۔شیخ رشید نے وضاحت کی کہ سیاستدان کبھی بھی بند گلی میں داخل نہیں ہوتا اس لیے مذاکرات کا ایک راستہ کھلا رکھنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی دوبارہ اسی نشست پر دوبارہ کامیاب ہوں گے جبکہ وزیر اعظم عمران خان کا امیدوار بھی ریاست کا امیدوار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…