چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ، حکومت نے پی ڈی ایم میں شامل جماعت سے مدد مانگ لی

  اتوار‬‮ 7 مارچ‬‮ 2021  |  19:11

پشاور ( آن لائن ) چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے پی ڈی ایم میں شامل جماعت عوامی نیشنل پارٹی سے تعاون مانگ لیا تفصیلات کے مطابق اپوزیشن اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی سے مدد کے لیے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی وفد نے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار صادق سنجرانی کےہمراہ ولی باغ کا دورہ کیا ، جہاں انہوں نے اے این پی کے سینیئر نائب صدر امیر حیدرہوتی سے ملاقات کی ، اس دوران اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان اور پی ڈی ایم کے ترجمان میاں افتخار


حسین بھی موجود تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں پی ٹی آئی وفد نے اے این پی سے سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے لیے تعاون کی درخواست کی ، جس کے جواب میں اے این پی نے پارٹی سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کرادی۔ اس موقع پر اے این پی کے سینئر نائب صدر امیر حیدرہوتی نے کہا کہ سیاسی معاملات کو سیاسی طریقہ کار کے ذریعے ہی حل کرنا ملک و قوم کی مفاد میں ہے ، اے این پی پی ڈی ایم کا حصہ ہے تاہم آپ کی آنے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اے این پی میں تمام فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں اس لیے آپ کی درخواست پر بھی پارٹی میں مشاورت کریں گے۔واضح رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی بیک وقت اپوزیشن اتحاد اور بلوچستان میں حکومت کا حصہ ہے۔ حالیہ سینیٹ انتخاب میں عوامی نیشنل پارٹی نے بلوچستان سے بھی ایک سینیٹ کی نشست حاصل کی ہے۔دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے متفقہ امیدوار یوسف رضا گیلانی گیلانی کی سینیٹ الیکشن میں کامیابی کے بعد پی ڈی ایم اپنا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ لانے کیلئے متحرک ہوگئی ہیں اس ضمن میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے باقاعدہ کام شروع کردیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

12ہزار درد مندوں کی تلاش

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎

ارشاد احمد حقانی (مرحوم)’’ ریڈ فائونڈیشن‘‘ کا پہلا تعارف تھے‘ حقانی صاحب سینئر صحافی تھے‘ سیاسی کالم لکھتے تھے اور یہ اپنے زمانے میں انتہائی مشہور اور معتبر تھے‘ میری عمر کے زیادہ تر صحافی ان کی تحریریں پڑھ کر جوان ہوئے اور صحافت میں آئے‘ حقانی صاحب ہر رمضان میں چند قومی این جی اوز اور خیر کا کام ....مزید پڑھئے‎