”یہ کوئی چھانگامانگا کی عدالت نہیں ہے” شہباز شریف کے پیش نہ ہونے پرجج برہم

  جمعہ‬‮ 5 مارچ‬‮ 2021  |  11:20

لاہور( این این آئی)احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت 10مارچ تک ملتوی کر تے ہوئے آئندہ سماعت پر پی ڈبلیو ڈی کے گواہان کو طلب کر لیا ۔ عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی حاضری سے متعلق تاخیر پر متعلقہ جیل حکام کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دئیے یہ کوئی چھانگا مانگا کی عدالت نہیں ،رش تھا تو صبحپانچ بجے نکلا کرو ۔احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے منی لانڈرنگ ریفرنس پر سماعت کی ۔ احتساب عدالت نے ریفرنس میں نامزد دیگر ملزمان کی حاضری مکمل کرائی ۔ فاضل عدالت نے


استفسار کیا شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیوں پیش نہیں ہوئے اورعدم حاضری پر غیر حاضری لگادی تاہم کچھ دیر بعدحمزہ شہباز عدالت میں پہنچ گئے جس پر عدالت نے ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وقت پر عدالت آیا کریں ۔ عدالت نے مذکورہ عدالت نے استفسار کیا شہبازشریف کو کیوں پیش نہیں کیا گیا ،اب وقت کافی ہو چکا ہے کیا عدالتیںانہی کے پاس لے جائیں۔عدالت نے شہبازشریف کوپیش نہ کرنے پرمتعلقہ جیل حکام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔عدالت نے کہا کہ یہ کوئی چھانگا مانگا کی عدالت نہیں ہے۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل نے بتایاکہ راستے میں رش تھا اس لیے تاخیر ہو گئی ۔ عدالت نے کہا کہ اگر رش ہوتا ہے تو صبح پانچ بجے نکلو ،آج ہر گز برداشت نہیں کروں گا ۔جیل حکام اور شہباز شریف کے وکیلکی جانب سے شہباز شریف کی طبیعت بارے آگاہ کرتے ہوئے میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی ۔ عدالت نے شہباز شریف کی حاضری معافی کی درخواست منظورکر لی ۔ وکلاء نے استدعا کی کہ شوکاز نوٹس واپس لے لیں۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آئندہ کے بعد ایسا نہ ہو اوروکلا کی استدعا پر شوکاز نوٹس واپس لے لیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پی ڈبلیو ڈی کے گواہان غلام مجتبیٰ اور شاہد مجید کو طلب کرتے ہوئے سماعت 10مارچ تک ملتوی کر دی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎