سینیٹ انتخابات، اپوزیشن کو حکومت پر کتنی نشستوں کی برتری حاصل ہو گئی ؟جانئے

  بدھ‬‮ 3 مارچ‬‮ 2021  |  22:30

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/آن لائن )سینیٹ کے آج کے انتخابات کے مجموعی نتائج کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو حکومت پر 8 نشستوں کی برتری حاصل ہوگئی ہے۔ اب پی ڈی ایم آسانی سے اپنا چیئرمین سینیٹ منتخب کروائے گی۔ واضح رہے کہ سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی جنرل نشست پر حکومت کو بڑا دھچکا،پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے 5ووٹوں کی برتری سےحکومتی اتحاد کے امیدوار حفیظ شیخ کو شکست دیدی ، سابق وزیراعظم کو 169، حفیظ شیخ کو 164ووٹ ملے،7ووٹ مسترد ہوگئے جبکہ خواتین کی نشست پر حکومتی امیدوار فوزیہ ارشد 174 ووٹ


حاصل کرکے کامیاب قرارپائی ہیں ، پی ڈی ایم کی امیدوار فرزانہ کوثر نے 161 ووٹ لیے۔ 5 ووٹ مسترد ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو سینیٹ کی 37 نشستوں پر الیکشن ہوا جس کے لیے پولنگ کا عمل صبح 9 بجے شروع ہوا، پولنگ کا عمل 5 بجے تک جاری رہا۔سینیٹ انتخابات کے لیے قومی اور تین صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ ہوئی۔ پولنگ کا عمل بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔ قومی اسمبلی کے 341 اراکین میں سے 340 نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا جب کہ جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدلااکبر چترالی نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔این اے 75 ڈسکہ سے کوئی ممبر قومی اسمبلی میں نہیں ہے کیونکہ یہاں پر الیکشن کمیشن نے دوبارہ انتخابات کااعلان کر رکھا ہے۔اسلام آباد کی 2، سندھ کی 11، خیبرپختونخوا کی 12 اور بلوچستان کی 12 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔ صوبوں کی نشستوں پر ارکان صوبائی اسمبلی نے ووٹ ڈالا۔ جبکہ اسلام آباد کی 2 نشستوں پر ارکان قومی اسمبلی نے ووٹ کاسٹ کیا۔ اسلام آباد کی جنرل نشست پر پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے یوسف رضا گیلانی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا، اب کامیاب امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا ہے، سینیٹ الیکشن کے نتائج کے مطابق سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی نے حفیظ شیخ کو شکست دے دی ہے، یوسف رضا گیلانی سینیٹر منتخب ہوگئے ۔ ریٹرننگ افسر نے نتائج کا اعلان کر تے ہوئے بتایا کہ جنرل نشست پر یوسف رضا گیلانی 169 ووٹ لے کر کامیاب قرارپائے ہیں ۔ انکے مدمقابل حکومتی اتحاد کے حفیظ شیخ نے 164 ووٹ لیے۔7 ووٹ مسترد ہوئے۔ اسی طرح خواتین کی نشست پر فوزیہ ارشد کامیاب، 174 ووٹ حاصل کیے۔جبکہ پی ڈی ایم کی امیدوار فرزانہ کوثر نے 161 ووٹ لیے۔ 5 ووٹ مسترد ہوئے۔#/s#


زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎