منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ہارون الرشید کو سینیٹر بننے کی پیشکش آفر کرنے والے کوکیا جواب دیا؟سینئر صحافی نے خود ہی بتا دیا

datetime 2  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد، پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی پی)سینئر صحافی و تجزیہ کار ہارون الرشید نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز خٹک 2012 میں پی ٹی آئی میں شامل ہوئے اور پھر انہیں وزیراعلیٰ بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک نے وزیراعلی بنانے

کی دھمکی بھی دی تھی لیکن پھر انہوں نے کہا کہ مجھ پر عمران خان کے بہت سے احسانات ہیں۔اگر وہ کہتے ہیں کہ میں نے کرپشن نہیں کی تو وہ صحیح کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے آج تک کوئی کرپشن نہیں کی۔ ان کی جوڑ توڑ کی بھی صلاحیت ہے۔ 18 سال سے فوزیہ قصوری ، جوپی ٹی آئی کی خاتون ونگ کا حصہ تھیں انہیں پیسہ خرچ کر کے ہرایا گیا تھا۔ بعد ازاں شیریں مزاری نے عمران خان کو ٹکٹ کے معاملے پر بلیک میل کیا اور کہا کہ نمبر ون میرا ٹکٹ ہو گا۔ہارون الرشید نے کہا کہ میں آپ کو یہ بات لکھ کر دیتا ہوں، اندازے کی حد تک یقین سے کہتا ہوں کہ پرویز خٹک پہلا موقع ملتے ہی وزیراعظم عمران خان کو دھوکہ دیں گے۔ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہے جو یہ دعوی کر سکے کہ وہ عمران خان کے ساتھ پہلے 15 سالوں میں پوری طرح متحرک رہا ہے۔ مجھے تو الیکشن نہیں لڑنا تھا ، کتنے صحافی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے عمران خان کا ساتھ دیا ، یہ کوئی کلپ نکال کے دکھا دیں، میرے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں تھا۔

لیکن مجھے کسی قسم کا انعام نہیں چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بھی سینیٹر بنانے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن میں نے قبول نہیں کی۔ خوشامد سے بد تر کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے میں نے یہ پیشکش قبول نہیں کی کیونکہ مجھے آزادی پسند ہے۔ میں اسی نوکری میں خوش ہوں۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِ دفاع پرویز خٹک نے نوشہرہ میں اپنی تقریر سے متعلق وضاحتی بیان جاری کر دیا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی تقریر میں واضح طور پر کہا تھا کہ وہ عمران خان کے ساتھ مخلص اور ان کے احسان مند ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان کے مجھ پر بہت احسانات ہیں،

اس لیے تن من دھن سے عمران خان کے ساتھ ہوں۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک کو عوام نے مسترد کر دیا ہے، پی ڈی ایم کا مصنوعی اتحاد اپنی کرپشن اور چوری بچانے کے لیے تھا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میری عزت کرتی ہے، اس لیے میں بھی ارکانِ اسمبلی کا خیال رکھتاہوں،

مجھے سیاست میں کوئی دھوکا نہیں دے سکتا۔پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے سربراہان نے ماضی کی حکومتوں میں عوام کا پیسہ چوری کیا اور اب اس چوری پر پردہ ڈالنے کے لیے کرپٹ ٹولہ حکومت پر دباو ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا

کہ پورے پاکستان کی اپوزیشن میری عزت کرتی ہے، اسمبلی کے سارے ممبران کو سنبھالتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے سربراہان نے ماضی کی حکومتوں میں عوام کا پیسہ چوری کیا اور اب اس چوری پر پردہ ڈالنے کے لیے کرپٹ ٹولہ حکومت پر دبائو ڈالنے کی

ناکام کوشش کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شدید اختلافات پیدا ہوچکے ہیں اور بہت جلد ان کا مصنوعی اتحاد اپنے انجام کو پہنچ جائے گا، موجودہ مہنگائی کے ذمے دار سابقہ حکومتوں کے حکمران ہے جن کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج پاکستان قرضو ں میں ڈوبا ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…