منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

گفٹ سکیم کی آڑ میں جعلی دستاویزات پر گاڑیوں کی کلیئرنس کا انکشاف

datetime 9  جنوری‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی) پاکستان کسٹمز نے گفٹ اسکیم کی آڑ میں جعلی دستاویزات پر گاڑیوں کی کلئیرنس کا انکشاف کرتے ہوئے کلئیرنگ ایجنٹس اور درآمد کنندگان کے خلاف 6 الگ الگ مقدمات درج کرلیئے گئے ہیں۔اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ بعض خفیہ اطلاعات کی

روشنی میں کلکٹر اپریزمنٹ ایسٹ انجینئر ریاض میمن کی جانب سے ایڈیشنل کلکٹر شاکر علی اور افضال وٹو کو گفٹ اسکیم کے تحت کسٹمز سے کلیئر ہونے والی درآمدی گاڑیوں کا آڈٹ کرنے کی ہدایات کی گئی تھی جس پر اسسٹنٹ کلکٹر اسد علی کی سربراہی میں پرنسپل اپریزر شاہ رخ صدیقی، اپریزنگ آفیسر محمد بلال اور ملک ہاشم پر مشتمل ٹیم نے متعدد کلیئرنگ ایجنٹس کی جانب سے کلئیر کرائی جانے والی گاڑیوں کے دستاویزات کی تفصیلی جانچ پڑتال کی گئی۔جانچ پڑتال کے عمل میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ متعدد کلیئرنگ ایجنٹس نے گفٹ اسکیم کے تحت کلئیر کرائی جانے والی گاڑیوں کی کلیئرنس کے لیے جعلی دستاویزات کا سہارا لیا ہے جس پر کسٹمز حکام نے متعلقہ کلیئرنگ ایجنٹس میں شامل میسرز اختر اینڈ سنز انٹرپرائزز کے مالک محمد رمضان اختر، منیجر محمد فیصل، میسرز پاک ہال انٹرپرائزز کے مالک شفیق الرحمن، میسرز یونائٹیڈ اسپیکٹرم کے مالک زاہد حسین، طالب، میسرز انوویٹیو لاجسٹک کے مالک مناف

راجوی، مس عظمی آصف ،اخترحسین کے خلاف چھ الگ الگ مقدمات درج کرلیے۔ذرائع کے مطابق محکمہ کسٹمز کی آڈٹ ٹیم کی جانب سے میسرز انوویشن لاجسٹک کے مالک مناف کی جانب سے عظمی آصف کا پاسپورٹ گاڑی کی کلیئرنس کے لیے پیش کیا گیا جس پر کسٹمز

حکام نے پاسپورٹ کی جانچ پڑتال کی تو اس پر لگے ہوئے ویزے کا اسٹیٹس ڈیپنڈنٹ ظاہر ہوا۔محکمہ کسٹمزنے گاڑی کی کلیئرنس مذکورہ پاسپورٹ پر کرنے سے انکارکردیا جس پر کلیئرنگ ایجنٹ مناف کی جانب سے عظمی آصف کی تنخواہ کے دستاویزات پیش کیے گئے

جس کی کسٹمز حکام نے تنخواہ کے دستاویزات کی تصدیق کروائی تو یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ مناف کی پیش کردہ تنخواہ کے جعلی کاغذات جمع کروا کر گاڑی کی کلیئرنس کروانا چاہتا تھا۔اسی طرح محکمہ کسٹمز کی جانب سے کیے جانے والے آڈٹ کی رپورٹ کے مطابق کلیئرنگ

ایجنٹ میسرز اختر اینڈ سنز انٹرپرائزز کے مالک محمد رمضان اختر نے سلیمان خان نامی شخص کے پاسپورٹ کا غیرقانونی استعمال کرتے ہوئے 2 ٹویوٹا وٹز گاڑیاں کلیئر کرائیں جبکہ ایک اور مقدمہ میں انکشاف ہواہے کہ میسرز اختر اینڈ سنز انٹرپرائزز نے مسعود یعقوب نامی شخص کے

پاسپورٹ پر دو گاڑیاں نسان اور وٹز کی کلیئرنس کرائیں۔ذرائع نے بتایاکہ جعل سازی میں ملوث ملزمان میں سے ایک کلئیرنگ ایجنٹ کمپنی میسرز اختر اینڈ سنز کے مالک محمد رمضان اختر کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے حکمت عملی بھی مرتب کرلی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…