منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

عدالت نے سوشل میڈیا پر توہین رسالت کرنے والے 3 ملزمان کو سزائے موت سنا دی

datetime 8  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (آن لائن/مانیٹرنگ ڈیسک ) انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سوشل میڈیا پرتوہین رسالت کے تین ملزمان کوسزائے موت کا حکم دے دیا۔اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سوشل میڈیا گستاخانہ مواد کیس کا فیصلہ جج راجہ جواد عباس نے ملزمان کی موجودگی میں سنادیا۔ عدالت نے 15 دسمبر2020 میں فیصلہ محفوظ کیا تھا۔عدالت نے سوشل میڈیا پر

توہین رسالت کے تین ملزمان ناصراحمد سلطان، رانا نعمان اورعبد الوحید کو سزائے موت سنا دی جب کہ ایک ملزم پروفیسرانواراحمد کو توہین مذہب پردس سال قید ایک لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ چاراشتہاری ملزمان کے دائمی وارنٹس گرفتاری بھی جاری کردیئے گئے۔عدالت نے اپنے جاری کردہ فیصلے میں کہا کہ ملزمان پرتوہین رسالت اور توہین مذہب کا الزام ثابت ہو گیا ہے۔ایف آئی اے نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر توہین رسالت، توہین مذہب، انسداد دہشت گردی اور انسداد سائبر کرائم ایکٹ کی دفعات کے تحت 19 مارچ 2017 کو مقدمہ درج کیا تھا۔چار ملزمان پروفیسر انوار احمد، ناصر احمد، عبدالوحید اور رانا نعمان رفاقت گرفتار ہوئے جبکہ چار ملزمان طیب سردار، راؤ قیصر شہزاد، فراز پرویز اور پرویز اقبال مفرور ہیں۔پروفیسر انوار احمد اسلام آباد کے ایک کالج میں لیکچرار ہیں اور انہوں نے غلطی تسلیم کی۔عبدالوحید اور رانا نعمان نے فیس بک گستاخانہ پیج، توہین رسالت پر مبنی کتاب کا ترجمہ کیا جبکہ ناصر احمد سلطانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔مدعی مقدمہ حافظ احتشام احمد کے وکیل حافظ ملک مظہر جاوید ایڈووکیٹ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا بتایا کہ سال2017 میں فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر گستاخانہ مواد اپلوڈ کیا گیا تھا۔ایف آئی اے کی تفتیش میں8 ملزمان کو نامز کیا گیا جن میں سے چار گرفتار ہوئے اور چار مفرور ہیں۔ اس کیس میں کم سے کم40 گواہان پیش ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…