پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

مریم نواز کی مزید غلامی نہیں کرسکتے ایک درجن سے زائد لیگی رہنمائوں نے مریم نواز کی قیادت قبول کرنے سے صاف انکار کردیا، تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 17  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی و تجزیہ کارعارف حمید بھٹی نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے  کہا ہے کہ مسلم لیگ ن میں 15 ایسے لوگ ہیں جو مریم نواز کی غلامی کرنے کو تیار نہیں ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف آج کل کچن کیبنٹ میں ہیں اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے کہ بہت سوچ سمجھ کر کہا ہے۔

یہاں جمہوریت کا جھوٹا درس دیا جا رہا ہے اور میں جمہوریت کا جھوٹا درس سن سن کر تنگ آ گیا ہوں۔جمہوریت عوام کی حکومت ، عوام کے ذریعے ، عوام کے لیے ہے۔ جن جن لوگوں نے سکھر ، پشاور  یا کوئٹہ سے ووٹ لیے ہیں اس کی اتنی بھی حیثیت نہیں ہے کہ اپنے ووٹرز سے پوچھ سکیں کہ میں تمہارے ووٹ لے کر آیا ہوں لیکن لندن میں بیٹھے ایک شخص کے لیے استعفیٰ دے رہا ہوں،کیا یہ جمہوریت ہے؟ یہاں ووٹر کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔عارف حمید بھٹی نے کہا کہ جلسہ بڑا تھا یا چھوٹا اس بحث میں نہیں پڑتے، کیا لاہور جلسے میں آپ نے مسلم لیگ ن پنجاب کا صدر دیکھا، مسلم لیگ ن لاہور کا صدر دیکھا، لاہور کا سیکرٹری دیکھا ۔دریں اثنامسلم لیگ ن کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف نے کہا ہے کہ ہماری پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ اب کمزور ہوگئی ہے ،لیڈرشپ بھی پارٹی میں احتساب کا عمل چاہتی ہے ،سعد رفیق کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو ڈیوٹیاں نبھانے کی بات کرتا،سعد رفیق کام نہ کرنے والوں کو جانتے تھے ،اس

لئے بات بھی کی،پارٹی کے اندر کام کرنیوالوں کو شکایت تھی جس کا اظہار خواجہ سعد رفیق نے کیا۔مسلم لیگ ن کے رہنما کے مطابق سعد رفیق کی بات آگے بڑھاتے مریم نواز نے بھی کہا کہ اب احتساب ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھاکہ ہمارے 4سے 6افراد وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہے ہیں۔

وکٹ کے دونوں اطراف کھیلنے والوں کا لیڈر شپ کو بھی علم ہے ۔ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے میاں جاویدلطیف نے اس بات کااعتراف کیا کہ پارٹی اجلاس میں مریم نواز نے سزا اور جزا کی بات کی،مریم نواز نے کہا کہ اب احتساب ہوگا،ماضی میں بھی احتساب ہوتا رہا ہے ،ہماری پارٹی کے چار سے چھ لوگ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…