جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

نیب اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہ کرے ، ملزمان کے ساتھ نیب یہ کام بھی نہ کرے ، سپریم کورٹ کے ریمارکس

datetime 4  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے نیب ملزمان کے خلاف ایک سے زائد ریفرنسز دائر کرنے سے متعلق درخواستوں پر آئندہ سماعت پر معاونت کیلئے پراسیکیوٹر جنرل نیب کو طلب کرلیا جبکہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب ملزمان کو حراساں مت کرے ،نیب اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہ کرے ۔ جمعرات کو کیس کی سماعت

کے دور ان جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ نیب ملزمان کو حراساں مت کرے ،نیب اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہ کرے ۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ وائٹ کالر کرائم میں تو دستاویزی شواہد دینا ہوتے ہیں ،ہر ریفرنس میں 90 ،90 روز کا ریمانڈ تو ظلم ہے ۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ نیب کو قانون کے ماتحت رہ کر ہی فرائضِ سرانجام دیناہیں ۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نے کہاکہ فوجداری مقدمات میں 40 روز سے زیادہ ریمانڈ نہیں مل سکتا ،نیب کو ملزم کے 90 روز کے ریمانڈ کا اختیار تحقیقات مکمل کرنے کیلئے ہی دیا گیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ کیا تحقیقات کیلئے نیب افسر تربیت یافتہ نہیں ؟ نیب تحقیقات مکمل کرکے ایک ہی ریفرنس کیوں داخل نہیں کرتا ؟ نیب کے لا افسران نے ایشوز پر ڈیپارٹمینٹ میں بات کیوں نہیں کرتے ۔ وکیل نیب نے کہاکہ ملزمان کو گرفتار نہ کیا جائے تو وہ تعاون نہیں کرتے ،لندن میں ایک اہم سیاسی شخصیت کے خلاف دو تین سال سے منی لانڈرنگ کی تحقیقات جاری ہیں ۔ وکیل نیب نے کہاکہ ٹرائل کورٹ کے پاس ریفرسز کو یکجا کرنے کا اختیار ہے ۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نے کہاکہ نیب کے پاس ضمنی ریفرنس دائر کرنے کا اختیار کس قانون میں ہے ؟وکیل نیب نے کہاکہ ضمنی ریفرنس سی آ ر پی سی کے ضمنی چالان کے قانون کے تحت کئے جاتے ہیں ۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ نیب کو اپنے اختیارات کو غیر جانبداری سے استعمال کرنا ہے ۔ وکیل نیب نے کہاکہ ہائکورٹس نے تو نیب کے ایک ملزم کے خلاف زیادہ ریفرنسز دائیر کرنے سے ہی روک دیا ہے ۔ عدالت نے کہاکہ سارے فریقین معاملے پر تحریری معروضات جمع کروائیں ،کیس کی مزید سماعت جنوری میں ہوگی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…