جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

کورونا وائرس ،  اگلے سال دنیا کے حالات کیسے ہونگے ؟ ماہرین نے پیش گوئی کر دی  

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

واشنگٹن(آن لائن )ماہرین   اگلے سال میں حالات بہتر ہونے کے لیے پرامید ہیں۔ماہرین  کہنا ہے کورونا وائرس   وبا کو روکنا اسی وقت ممکن ہوسکے گا جب 70 فیصد آبادی میں اس وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہوجائے ۔ امریکا کے ماہر وبائی امراض کے ممتاز ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے   سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ حالات اپریل سے جولائی کے دوران کسی

حد تک معمول پر آجائیں گے۔ان کے خیال میں ایسا 2021 کی دوسری یا تیسری سہ ماہی میں ممکن ہوسکتا ہے، خصوصاً امریکا میں۔ان کا کہنا تھا کہ ویکسینز کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں، مگر ہمیں لوگوں کو ویکسین لینے کے لیے تیار کرنا ہوگا، جس کے بعد توقع ہے کہ حالات دوسری یا تیسری سہ ماہی کے دوران معمول پر آجائیں گے۔دوسری جانب فائرز ویکسین کی تیاری میں شامل جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کے شریک بانی ترک نڑاد اوغور شاہین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وبا کے خاتمے کے حوالے سے پیشگوئی کی۔انہوں نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ حالات ایک سال کے اندر معمول پر آجائیں گے اور ویکسین کی وجہ سے اگلے سال موسم سرما میں زندگی ماضی جیسی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ فائزر ویکسین کے مزید تجزیے سے توقع ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان اس کی منتقلی کی شرح مزید کم کرسکے گی اور بیماری کی علامات کی روک تھام بھی ہوسکے گی۔انہوں نے کہا ‘میں پْرامید ہوں کہ لوگوں کے درمیان بیماری کی منتقلی میں اس طرح کی موثر ویکسین سے کمی آئے گی، شاید 90 فیصد نہ ہو بلکہ 50 فیصد ہو، مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا کہ اس سے وبا کے پھیلاؤ میں ڈرامائی کمی آجائے گی’۔پروفیسر اوغور شاہین نے بتایا کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو توقع ہے کہ سال کے آخر یا 2021 کے شروع میں ویکسین کی تقسیم کا عمل شروع ہوجائے گا۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے میڈیسین پروفیسر اور اس یونیورسٹی کی ویکسین کی تیاری میں شریک جان بیل نے

بی بی سی کو گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ اگلے سال موسم بہار تک معمولات زندگی وبا سے پہلے جیسے ہوجائیں گے۔ان کے بقول ‘میں شاید پہلا شخص ہوں جو یہ کہہ رہا ہے مگر میں ایسا اعتماد سے کہہ رہا ہوں’۔مگر برطانیہ کی لیورپول یونیورسٹی کے ماہر جولیان ہسکوس نے اکتوبر میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ‘وبا سے پہلے کی زندگی 5 سال تک بحال نہیں ہوسکے گی’

۔ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی ویکسینز شاید مالی نہ ہوں اور ضروری نہیں کہ ان سے وائرس کے پھیلاؤ کی شرح اس حد تک کم ہوسکے، جو وبا کی روک تھام کرسکے، جس دوران فیس ماسک کا استعمال اور سماجی دوری جیسی احتیاطی تدابیر پر برسوں تک عمل کرنا پڑسکتا ہے۔ویکسینز کی تیاری ہی نہیں ان کی دنیا بھر میں ترسیل کے لیے پیکیجنگ اور ٹرانسپورٹ بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔برائٹن یونیورسٹی کی بائیو میڈیکل سائنس کی ماہر سارہ پٹ کے مطابق ابھی ویکسینز متعارف کرانے کے عمل میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس کے بعد ان کی ترسیل کا عمل کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…