وبائی ا مراض کی بنا پر صارفین میں گھبراہٹ کے عالم میں خریداری ایک عالمی مسئلہ بن گیا ،سٹڈی رپورٹ جاری

  جمعرات‬‮ 12 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  19:34

کراچی (این این آئی)کوویڈ19وبائی بیماری کے عالمی بحران نے دنیا کے 180سے زائد ممالک میں رہنے والے اربوں کی تعداد میں افراد میں خوف ،گھبراہٹ اور غیر یقینی صورتحال پھیل جانے کی بنا پر عالمی معیشت اور صحت عامہ کے شعبوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے،چونکہ لاک ڈاون کا عمل بہت سارے ممالک میں جاری ہے عام لوگوں میں گھبراہٹ کے عالم میں اشیاء ضرورت کی خریداری کوروناوائیرس پھیلنے کی ایک قابل اعتماد خصوصیت کے طور پر ابھری ہے جس کی وجہ سے سپر اسٹورز پر بے حد بھیڑ دیکھی جاتی ہے، ،شیلف خالی نظر آتے ہیں ،


کھانے پینے کی اشیاء جن میں منجمند کھانا، آٹا، چاول،پھل،سبزیاں، گوشت، انڈے اور روٹیاں شامل ہیں لوگ ان چیزوں کا گھر میں وافر مقدار میں اسٹاک کرنے کے لئے جنونی انداز میں خریداری کرتے نظر آتے ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لاک ڈاون کی بنا پر گھبراہٹ میں خریداری ایک عالمی جنون کی شکل اختیار کرچکی ہے اور صارفین میں کنٹرول کے کھوجانے کا عالمی بحران آج بھی جاری ہے اور اس کے اثرات معیشت، کاروبار اور صارفین پر گہرے اور دور رس ثابت ہونگے، لہذا صارفین کی گھبراہٹ اور خریدنے والے طرزعمل کی جانچ پڑتال کرنے اور روکنے کی اشد ضرورت ہے۔یہ بات محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کے دوپروفیسرز ڈاکٹر طاہر اسلام اور ڈاکٹر شجاعت مبارک سمیت چین،بھارت اور امریکہ کے پانچ ممتاز ریسرچ اسکالرز ینگ وانگ، لیاننگ ژاوئبی،نعیم اختر،عبدالحمید پتافی اور وکاس آریا کی ایک مشترکہ اسٹڈی رپورٹ " کوویڈ 19وبائی امراض کے دوران گھبراہٹمیں خریداری : ایک کثیر الملکی امتحان"میںکہی گئی ہے جو حال ہی میں مشہور امریکی ریسرچ جریدے جرنل آف ریٹیلنگ اینڈ کنزیومر سروسز میں شائیع ہوئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ اب یہ ایک موجودہ عالمی مسلہ ہے اور تعلیمی اداروں میں اس پر کوئی بات بھینہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے کوویڈ 19وبائی امراض میں خاص طور پر ایک کثیر الملکی تناظر میں گھبرانے والے طرز عمل کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔اس بحران میں کوئی شک نہیں کہ متعدد ممالک کی صورتحال کا جائیزہ لینے والے ایک مطالعے سے ہمیں عالمی سطحپر بحرانوں کو کس طرح سنبھالنا ہے، اس کے بارے میں بہت ضروری مشاہدہ اور بصیرت درکار ہوگی۔اس اسٹڈی رپورٹ میں محرک حیاتیات وردعمل کے نمونوں اور مسابقتی طور پر فروغ دینے والے ماڈل کی نظریاتی رہنمائی خطوط کے تحت اس بات کی تحقیقات کی گئیں کہ اسوبائی بیماری سے پیدا ہونے والے خوف و ہراس میں بیرونی محرکات جیسے محدود مقدار میں قلت اور محدود وقت کی کمی لوگوں کی جذباتی کیفیت کو متاثر کرتی ہے جو صارفین میں متاثر کن اور جنونی رویے کو متاثر کرتے ہیں۔آن لائن سروے جوکہ وبائی بیماری کے عروج کے وقتپر کیا گیا تھا کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ضرورت سے زیادہ سوشل میڈیا کے استعمال سے اشیاء کی قلت کے پیغامات اور دیگر سمجھے جانے والے عوامل کے مابین تعلقات میں شدت پیدا ہوتی ہے جبکہ منتخب ممالک میں سوائے بھارت کے سمجھے جانے والے مشتعل اورطرزعمل کے مابین تعلقات کو اعتدال پسندانہ طریقہ سے استوار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، نظریاتی اور انتظامی اعتبار سے۔مزید یہ کہ آج کی دنیا ایک ڈیجیٹل ورلڈ کہلاتی ہے ،سوشل میڈیا لوگوں کی زندگی کے ہر پہلو کو کو متاثر کرنے والی ایک موثر طاقت بن چکی ہےمگر اس کے باجود کوویڈ 19وبائی بیماری سے نمٹنا کوئی آسان بات نہیں ہے ،حقیقت تو یہ ہے کہ اربوں کی تعداد میں افراد حکومتوں کے احکامات پر گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے انٹر نیٹ کے استعمال میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔انڈسٹری سے حاصل شدہاعدادوشمار کے مطابق پوری دنیا میں انٹرنیٹ کے استعمال میں تقریباً 20فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ایک اور عالمی سروے کے مطابق سوشل میڈیا پر اب لوگ 40فیصد سے زائید وقت گذارتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کثیر الملکی اعدادوشمار کے مطابق یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ باہمی خریداری کی خواہش جو سمجھے جانے والے خوشگوار اور طرزعمل کے مابین تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں تین ممالک امریکہ،چین اور پاکستان میں ہے لیکن بھارت میں نہیں ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

براڈ شیٹ

شریف الدین پیرزادہ عرف عام میں جدہ کے جادوگر کہلاتے تھے‘ یہ ملک کے واحد قانون دان تھے جو قانون سے ہر قسم کی گنجائش نکال لیتے تھے چناں چہ ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک یہ ملک کے ہر آمر کے دست راست رہے‘ جنرل ضیاء الحق مرشد جب کہ جنرل پرویز مشرف انہیں ....مزید پڑھئے‎

شریف الدین پیرزادہ عرف عام میں جدہ کے جادوگر کہلاتے تھے‘ یہ ملک کے واحد قانون دان تھے جو قانون سے ہر قسم کی گنجائش نکال لیتے تھے چناں چہ ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک یہ ملک کے ہر آمر کے دست راست رہے‘ جنرل ضیاء الحق مرشد جب کہ جنرل پرویز مشرف انہیں ....مزید پڑھئے‎