جمعہ‬‮ ، 31 جولائی‬‮ 2026 

گردشی قرض کے خاتمے کے لئے بجلی صارفین پر مزید بوجھ ڈالنے کی منظوری دے دی گئی، کتنے سو ارب عوام کی جیب سے نکالیں جائیں گے؟

datetime 28  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی بجلی نے گردشی قرض کے خاتمے کیلئے بجلی بلوں پر سرچارج عائد کرنے کی حکومتی بل کی منظوری دیدی ،بجلی چوری کی روک تھام اور بلوں کی وصولی کیلئے واضح اقدامات سے مشروط کردی جبکہ کمیٹی نے بجلی چوری کے الزام میں بغیروارنٹ گرفتاری کی اجازت دینے سے انکارکرتے ہوئے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے

کرپٹ عملے کیخلاف اقدامات کا مطالبہ کردیا۔بدھ کو چوہدری سالک حسین کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کے اجلاس میں سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی حکام نے بتایا کہ یہ سرچارج ماہانہ تین سو یونٹ سے زائد والے صارفین پرعائد ہوگا ،گردشی قرض میں کمی کیلئے سات سو ارب کے قرضے لئے گئے ہیں ،انکی ادائیگی کیلئے بھی سرچارج عائد کرنا ناگزیر ہے ۔رکن کمیٹی عامر ڈوگر نے کہا کہ قوم کوجو زہر کا ٹیکہ لگانا ہے ،ایک بار ہی لگا دیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ کو کم کرنے کے لئے حکومت سرچارج لگانے جارہی ہے تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ سرچارج کے باوجود بجلی چوری اور گردشی قرض کم ہی نہ ہوا تو کیا کیا جائیگا،ایڈیشنل سیکرٹری پاور نے بتایا کہ گردشی قرض کے پلان پر آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے ،کمیٹی ارکان نے بجلی چوری کے سدباب میں ناکامی پر حکومتی پالیسی پرشدید تنقید کی گئی ۔سیکرٹری پاور نے بتایا کہ ڈسکوز میں 10 فیصد سے 25 فیصد سے زائد نقصانات ہیں ، نئی قانون سازی کے تحت پہلے مقدمہ درج ہوگا ،بعد میں بجلی چور گرفتار ہوں گے۔ بیشتر ارکان بجلی چوری پر گرفتاری کی بجائے چالان یا جرمانے لگانے کا مشورہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ چوری میں ملوث بجلی کمپنیوں کے ملازمین کو بھی قرار واقعی سزا دی جائے ،کراچی میں بجلی لوڈ شیڈنگ، اووربلنگ اور ناقص ترسیلی نظام پر آئندہ اجلاس میں سی ای او

کے الیکٹرک کو طلب کر لیا گیا ۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی بجلی نے گردشی قرض کے خاتمے کیلئے بجلی بلوں پر سرچارج عائد کرنے کی حکومتی بل کی منظوری دیدی ،بجلی چوری کی روک تھام اور بلوں کی وصولی

کیلئے واضح اقدامات سے مشروط کردی جبکہ کمیٹی نے بجلی چوری کے الزام میں بغیروارنٹ گرفتاری کی اجازت دینے سے انکارکرتے ہوئے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے کرپٹ عملے کیخلاف اقدامات کا مطالبہ کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…