لاہور (آن لائن)پی ایم ایس افسران نے چیف سیکرٹری کے عہدے کو پاکستان کے انتظامی و وفاقی مسائل کی جڑ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک خالصتاًصوبائی پوسٹ پر وفاقی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن و سروس کے آفیسر کی غیر آئینی تعیناتی وفاق اور آئین کو کمزور کرتی ہے۔
پی ایم ایس افسران کی ایسوسی ایشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کیبنٹ گورنمنٹ میں وزرا ء اور وزیراعلی حکومت کا نظام چلاتے ہیں،وزراکو اپنے انتظامی سیکرٹریوںکے ذریعے کابینہ کو براہ راست جوابدہ ہونا چاہیے۔تاہم جب چیف سیکرٹری کے ذریعے تمام اضلاع اور محکموں کا نظام چلے گا تو چیف سیکرٹری اختیارات کا منبع بن جائے گا اور نظام مفلوج ہو جائے گا۔نظام کو براہ راست وزرا ء کے ذریعے چلنا چاہیے۔پاکستان میں سیاسی اور مالی فیڈرلزم آئین کے مطابق تشکیل پا چکے ہیں جبکہ انتظامی فیڈرلزم کے تشکیل نہ پانے کی وجہ وفاقی ڈی ایم جی ہیں جو مسلسل آئین شکنی ہے۔اعلامیے میںکہا گیا ہے کہ وفاق اور گورننس کے مسائل کلونیل اور انتہائی مرکزیت کی حامل بیوروکریسی ڈی ایم جی کی وجہ سے ہیں،4000 سے زائد صوبائی افسران صوبائی و وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انتظامی فیڈرلزم کو آئین کے مطابق نافذ کیا جائے۔