ملک کے اندر اداروں کی لڑائی بھی شروع ہو چکی، یہ لڑائی آنے والے دنوں میں مزید بڑھے گی کیونکہ حکومت نے پی ڈی ایم توڑنے کیلئے کس پارٹی کو ساتھ ملانے کا فیصلہ کر لیا؟جاوید چودھری کے تہلکہ خیز انکشافات

  جمعہ‬‮ 23 اکتوبر‬‮ 2020  |  15:03

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’جمی کارٹر فارمولا ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔ہم آج تک یہ فیصلہ بھی نہیں کر سکے ملک کس نے چلانا ہے‘ سپریم ادارہ کون ہے؟ ہم جمہوریت اور آمریت کے درمیان بھی پنڈولم کی طرح ڈول رہے ہیں‘ ملک ثقافتوں‘ زبانوں اور روایات کا مربہ بھی بن چکا ہے‘ملک کی آدھی آبادی اردو بول اور پڑھ نہیں سکتی‘ہم فرقہ واریت کا شکار بھی ہیں‘ ہمیں ہر دو ماہ بعد ڈبل سواری اور موبائل فون بند کرنا پڑتے ہیں اور ہماری سیاسی جماعتیں بھی ایک دوسرے کے ساتھ دست وگریباں رہتی


ہیں‘ یہ ایک دوسرے کو سیکورٹی رسک اور غدار قرار دیتے ہوئے ایک منٹ نہیں لگاتیں اور اب قومی ادارے بھی ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوچکے ہیں۔آپ سندھ پولیس کا تازہ بحران دیکھ لیں‘ آئی جی سندھ کو رات چار بجے گھر سے لے جایاگیا اور کیپٹن صفدر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا‘ آئی جی نے صبح ساڑھے سات بجے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو بتایا‘ وزیراعلیٰ نے انہیں خاموش رہنے کا حکم دے دیا‘ یہ ایشو سارا دن چلتا رہا‘ اگلے دن پولیس کے اعلیٰ حکام وزیراعلیٰ سے ملے اور شدید احتجاج کیا‘ وزیراعلیٰ نے انہیں تسلی دی لیکن پریس کانفرنس کے دوران آئی جی کا نام تک نہ لیا۔صحافیوں کو بھی سوال کرنے سے روک دیا گیا‘ آئی جی مشتاق مہر یہ بے عزتی برداشت نہ کر سکے اور چھٹی پر جانے کا فیصلہ کر لیا‘ مشتاق مہر ایک ایمان دار اور دبنگ افسر ہیں چناں چہ پولیس فورس ان کے ساتھ کھڑی ہو گئی‘ سات ایڈیشنل آئی جیز اور 20 ڈی آئی جیز نے بھی چھٹی کی درخواست دے دی‘ ایڈیشنل آئی جی عمران یعقوب منہاس نے آغاز کیا‘عمران یعقوب منہاس نے اپنی درخواست سوشل میڈیا پر بھی جاری کر دی‘ یہ ”ٹو مچ“ تھا لہٰذا پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس پولیس فورس کا ساتھ دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا۔بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس کی اور براہ راستآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا‘ یہ آئی جی کے گھر بھی گئے یوں ایک معمولی سے ایشو نے پولیس اورفوج کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا جس سے ثابت ہو گیا ملک کے اندر اداروں کی لڑائی بھی شروع ہو چکی ہے‘ یہ لڑائی آنے والے دنوں میں مزید بھی بڑھے گی‘ کیوں؟ کیوںکہ حکومت نے پی ڈی ایم توڑنے کے لیےپاکستان پیپلز پارٹی کو ساتھ ملانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔یہ کراچی پیکج سندھ حکومت کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے‘ یہ جزیروں کا ایشو بھی سیٹل کر دے گی‘ اومنی گروپ کے مقدمات بھی ”سلو ڈاؤن“ ہو جائیں گے ‘ این ایف سی ایوارڈ میں بھی سندھ کو حصہ مل جائے گا جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے الگ ہو جائے گی اور اس کے بعد ملک میں مزید گند پڑ جائے گا‘پردے مزید ہٹ جائیں گے۔ہمیں آج یہ ماننا ہوگا یہ صورت حال حکومت کی بیڈ گورننس نے پیدا کی اور عسکری اداروں کو مجبوراً آگے آنا پڑ گیا۔آج ملک کا ہر ادارہ کنفیوژن اور بدانتظامی کا شکار ہے اور ادارے چلانے کے لیے ان لوگوں کو میٹنگ میں بیٹھنا پڑرہا ہے جن کا سرے سے یہ کام نہیں ہے‘ حکومت کو چلانے کے لیے چند مزید اقدامات بھی کیے جارہے ہیں‘ آنے والے دنوں میںپوری ٹاپ بیورو کریسی بدل دی جائے گی‘ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کوبھی تبدیل کر دیا جائے گا اور کابینہ میں بھی تبدیلیاں ہوں گی لیکن سوال یہ ہے اگر ان تبدیلیوں کے باوجود حالات نہ بدلے تو پھر کیا ہو گا؟پھر جو بھی ہو گا وہ ملک کے لیے بہت برا ہو گالہٰذا ہمیں سوچنا ہوگاہم اگر یہ ملک بچانا اور چلانا چاہتے ہیں تو پھر میری درخواست ہے آپ کارٹر فارمولے پر چلے جائیں‘آپ بیرونی اور اندرونی دونوں تنازعے ختم کر دیں کیوں کہ ہم بیک وقت دو دو جنگوں کے متحمل نہیں ہو سکتے‘ آپ یہ فیصلہ بھی کر لیں ملک کس نے چلانا ہے؟ ہم اگر آمریت کے ذریعے بچ سکتے ہیں تو آپ بے شک ملک میں تیس چالیس سال کے لیے مارشل لاءلگا دیں‘ ہمیں اگر کوئی ارطغرل غازی چاہیے تو آپ ملک میں بے شک خلافت قائم کر دیں اور ہمیں اگر جمہوریت بچا سکتی ہےتو پھر آپ جمہوریت کو پھلنے اور پھولنے کا موقع دیں۔ملک چل پڑے گا ورنہ دوسری صورت میں ہم باہر اور اندر دونوں محاذوں پر لڑتے لڑتے ختم ہو جائیں گے۔فیصلے کی گھڑی آ چکی ہے‘ آپ خود کر لیں گے تو ٹھیک ورنہ دوسری صورت میں وقت ہمیں مزید وقت نہیں دے گا‘ یہ ہمیں روند کر آگے نکل جائے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎