جمعہ‬‮ ، 29 مئی‬‮‬‮ 2026 

لاہورئیے ہوشیار ہو جائیں، شہر کی فضا بیماریوں سے بھر گئی

datetime 23  اکتوبر‬‮  2020 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور شہر کی فضاء بیماریوں سے بھر گئی، لاہورئیے ہوشیار ہو جائیں گے، فضا میں آلودگی بڑھنے سے شہر میں سموگ میں اضافے کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں، رپورٹ کے مطابق فیکٹریوں اور گاڑیوں کے دھوئیں نے فضا کو زہریلا کر دیا ہے اور سموگ سے وائرل انفیکشن پھیلنے لگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فضا میں آلودگی کی شرح 80 مائیکرو گرام فی

کیوبک میٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے مگر لاہور کے مختلف علاقوں میں یہ 300 سے بھی تجاوز کرچکی ہے اور گزشتہ سال کی طرح ایک مرتبہ پھر فیکٹریوں، گاڑیوں اور کھیتوں میں دھان کی باقیات کو جلائے جانے سے اُٹھنے والے دھوئیں نے آلودگی کے ساتھ مل کر سموگ پیدا کرنا شروع کردی ہے،جس سے شہری نزلہ، زکام، بخار اور مختلف وائرل انفیکشنز میں مبتلا ہو رہے ہیں، اور یہ کورونا مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد کریم نے کہا ہے کہ اسموگ کے تدارک سے متعلق غفلت برداشت نہیں کریں گے۔فاضل عدالت نے یہ ریمارکس اسموگ کے تدارک کے لیے کیس کی سماعت کے دوران دئیے۔ چیئرمین ماحولیاتی کمیشن جسٹس (ر)علی اکبر قریشی کی جانب سے فوکل پرسن سید کمال حیدر نے عدالت میں رپورٹ جمع کرائی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محکمہ زراعت کی جانب سے اسموگ پر قابو پانے کے لیے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، پنجاب میں 5ہزار مقامات پر فصلوں کی باقیات کو آگ لگائی گئی،فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے،محکمہ زراعت کی جانب سے عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا جارہا،محکمہ زراعت نے صرف 47مقدمات درج کروائے۔ رپوٹ میں استدعا کی گئی ہے کہ سیکرٹری زراعت کو اس سلسلہ میں احکامات جاری کیے جائیں۔ فاضل عدالت نے محکمہ زراعت

کو کمیشن کی سفارشات پر من و عن عمل کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ اسموگ کے تدراک سے متعلق غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ فاضل عدالت کی جانب سے چیئرمین ماحولیاتی کمیشن جسٹس (ر)علی اکبر قریشی کی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…