جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

کورونا کی وجہ سے کم کھانے، سستی اشیاء استعمال اور مدد مانگنے والوں کی تعداد میں اضافہ، سروے میں حیرت انگیز اعداد و شمار

datetime 18  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)گیلپ پاکستان کے سروے کے انکشاف کے مطابق 85 فیصد پاکستانی کورونا کے باعث آمدن کم ہونے پر شدید پریشان ہیں، سروے میں گھر کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے کھانا کم کھانے، سستی غذائی اشیاء استعمال کرنے اور رشتہ داروں سے مدد مانگنے والوں کی شرح میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔کورونا کی وبا سے عام آدمی کی معاشی حالت مزید خراب ہوئی

ہے جس میں اب تک بہتری نہیں آسکی۔ ا س بات کا انکشاف گیلپ پاکستان کے حالیہ سروے میں ہوا جس میں ملک بھر سے 2100 سے زائد افراد نیحصہ لیا۔ یہ سروے 9 ستمبر سے 2 اکتوبر کے درمیان کیا گیا۔سروے میں کورونا کی وبا کے دوران گھریلو آمدنی میں کمی کی شکایت پاکستانی عوام کی اکثریت نے کی۔ گزشتہ سروے میں 84 فیصد افراد نے آمدن میں کمی ہونے کا کہا تھا جب کی موجودہ سروے میں یہ شرح 85 فیصد نظر آئی جبکہ آمدن میں کوئی فرق نہ کہنے والوں کی شرح 16 فیصد سے کم ہو کر 14 فیصد ہوگئی اسی طرح گھر کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے کھانے میں کمی کا گزشتہ سروے میں 09 فیصد افراد نے کہا تھا لیکن موجودہ سروے میں ایسا کہنے والوں کی شرح 3 فیصد اضافے کے بعد 12 فیصد ہوگئی۔گھر کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے سستی غذائی اشیاء کے استعمال کا کہنے والے افراد کی شرح گزشتہ سروے میں 10 فیصد تھی جو 6 فیصد اضافے کے بعد اب 16 فیصد پر آگئی ہے۔گزشتہ سات دنوں میں بنیادی ضروریات کیلیے رشتہ داروں یا عزیزوں سے مدد لینے کا کہنے والے افراد کی شرح گزشتہ سروے کے مقابلے میں 10 فیصد اضافے کے بعد اب 21 فیصد پر آگئی ہے۔سروے میں یہ دیکھا گیا کہ گھریلو ضروریات پوری کرنے کیلئے عوام کا انحصار جمع پونجی پر کم ہورہا ہے۔گزشتہ سروے میں 10 فیصد افراد نے جمع پونجی استعمال کرنے

کا بتایا تھا جب کے موجودہ سروے میں 6 فیصد نے ایسا کرنے کا کہا۔ مگر یہ تعداد بھی ملکی آبادی کے تناسب سے 72 لاکھ بنتی ہے۔سروے میں دیکھا گیا کہ اخراجات پورے کرنے کے لیے گزشتہ سروے کی طرح موجودہ سروے میں بھی 11 فیصد افراد نے ذرائع آمدن بڑھانے پر غور کرنے کا کہا ہے۔حکومت اور این جی اوز سے امداد لینے کا کہنے والے افراد کی شرح بھی گزشتہ سروے

کے مقابلے میں 01 فیصد اضافے کے بعد 04 فیصد ہوگئی ہے۔موجودہ سروے میں گھر کے اخراجات پورے کرنے کیلئے اپنے اثاثے بیچنے کا کہنے والے افراد کی شرح میں بھی اضافہ ہوا۔ گزشتہ سروے میں 5 فیصد نے اثاثے بیچنے کا کہا تھا جبکہ موجودہ سروے میں 7 فیصد افراد نے ایسا کرنے کہا۔ آبادی کے تناسب سے گیلپ پاکستان کے مطابق یہ شرح 84 لاکھ بنتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…