ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستان میں آئندہ چند برسوں کےبعد سیاحت بالکل ختم ہو جائے گی اس کے پیچھے بڑی اور بنیادی وجہ کیا ہو گی ؟ چیف جسٹس کے ریمارکس

datetime 14  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے موقع پر وفاق اور چاروں صوبوں سے ملک بھر کے دریاوں اور نہروں کے کنارے درخت لگانے سے متعلق رپورٹ 4ہفتوں میں طلب کر لی ہے ۔از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف اپکستان جسٹس گلزار احمد نے

ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمراٹ، نتھیا گلی اور مری میں درخت ختم ہوگئے، ہمارے ملک میں آئندہ چند برسوں بعد سیاحت بالکل ختم ہوجائے گی،5 سال بعد ہمارا ملک بحر مردار بن جائے گا، درخت نہ ہونے سے موسم گرم ہوجائے گا اور برف پڑنا بند ہوجائے گی،پنجاب میں2 لاکھ درخت بہت کم ہیں ،پنجاب میں 2 فٹ کے درخت لگائے گئے ہیں، ہم امریکہ کیوں جائیں درخت ہمارے سامنے کٹ رہے ہیں،سندھ میں کچے کا علاقے میں جنگل ہونا چاہئے، کہاں لگے ہیں درخت ابھی مجسٹریٹ بھیج کر رپورٹ منگوا لیتے ہیں،سندھ میں کوئی درخت نہیں لگا غلط بیانی نہ کریں،پہلے سندھ میں نہروں اور ہائی ویز کے کنارے گھنے درختوں کی چھت بنی ہوتی تھی۔جسٹس فیصل عرب نے ایک موقع پر ریمارکس دیئے کہ بلین ٹری سونامی کا کیا بنا؟ جنگلات کی زمین نجی لوگوں کو الاٹ کر دی گئی، چھوٹے درختوں کو تو بکریاں کھا جاتی ہیں،نئی گج ڈیم سے متعلق رپورٹ بھی نہیںجمع کرائی گئی،کاغذوں پر درخت نہ لگائیں رپورٹ پیش کریں۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں 40 ہزار درخت لگا چکے رپورٹ جمع کرانی باقی ہے۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ پنجاب میں دریاوں اور نہروں کے کنارے 2 لاکھ درخت لگا دیئے ہیں، سندھ محکمہ آبپاشی حکام نے عدالت کو بتایا کہ سندھ میں نہروں اور دریاوں کے ساتھ درخت لگائے ہیں۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر قرار دیا کہ چھوٹے درختوں کو جانور کھا جاتے ہیں،دریاوں اور نہروں کے کنارے 6 فٹ سے بڑے درخت لگائے جائیں،6 فٹ کے درخت لگانے سے دریا اور نہروں کے بند مضبوط رہیں گے،عدالت عظمیٰ نے چاروں صوبوں اور وفاق کے فارسٹ اور ایری گیشن سیکرٹریز کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے معاملہ کی سماعت 4ہفتوں تک کے لئے ملتوی کر دی ہے ۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…