اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جی سی یونیورسٹی ساہیوال کیمپس میں لڑکیوں کو فیل کرنے کی دھمکی دے کران کی آبروریزی کرنے کا انکشاف ،تفصیلات کے مطابق کیمپس کی ایک طالبہ نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں بتایا کہ لڑکیوں کو امتحان میں نمبر لگوانے کے لیے
پرنسپل سہیل طارق اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے مجبور کرتاہے،ہاسٹل میں مقیم لڑکیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔متاثرہ طالبہ نے بتایا کہ اپنی خواہش پوری کرنے لیے فراز حنیف، کیمسٹری سے یونس کھوکھر،سکیورٹی آفیسر محمد سرمد،اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد عارفنے گروہ بنا رکھا ہے جو لڑکیوں کو مجبور کرکے چوہدری سہیل طارق کو پیش کرتے ہیں۔متاثرہ لڑکی نے الزام عائد کیا کہ فراز حنیف نے اسے نشانہ بنایا اور اسے فیل کرنے کی دھمکی دی جب میں نے انہیں میڈیا پر جانے کی دھمکی دی تو ایک لاکھ روپے رشوت لے کر میرا سمسٹر کلیر کر دیا۔متاثرہ طالبہ نے اپنے ویڈیو بیان میں مزیدکہاکہ انہوں نے چیئر مین نیب،وائس چانسلر اور وزیر اعلیٰ کو درخواستیں دیں مگر کسی نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، تنگ آکر میڈیا کا سہارا لے رہی ہوں،انہوں نے وزیر اعلیٰ،وزیراعظم اور چیف جسٹس پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیااور کہا ہے کہ ادارے سے کالی بھیڑوں کو نکال کر انہیں انصاف فراہم کیا جائے ۔