بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

غلط بیانی یا ریکارڈ فراہم نہ کرنے والے سرکاری آفیسرز کو کتنی سزا ہو گی؟ وفاقی وزیروں کو بھی سزا دینے کا فیصلہ

datetime 23  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت قائمہ کمیٹیوں کے سامنے غلط بیانی یا ریکارڈ فراہم نہ کرنے کے حوالے سے توہین پارلیمنٹ بل کی سفارشات تیار کر لی گئی ہیں،بل کے مطابق کسی بھی سرکاری آفیسر کو 3سے 6ماہ تک سزا دی جاسکتی ہے جبکہ وفاقی وزیر کو بھی غلط بیانی پر سزا دی جاسکتی ہے،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے استحقاق میں پارلیمنٹ کی توہین کے بل کا

مسودہ پیش کردیا گیا یہ مسودہ کمیٹی کی ہدایت پر تیار کیا گیا اس موقع پر کمیٹی کو کنسلٹنٹ بیرسٹر راحیل نے بل پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں توہین کے حوالے سے قانون سازی موجود ہے تاہم قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سطح پر کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہے اور اس بل کے حوالے سے سفارشات تیار کی گئی ہیں جس کے مطابق اگر کوئی افسر، وزیر یا متعلقہ شخص کمیٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوتا یا کمیٹی کو دستاویزات فراہم نہیں کرتا یا جعلی دستاویز فراہم کرکے گمزاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہو گا اور توہین پارلیمنٹ کا مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج یا سیشن جج کی عدالت میں چلے گا جس کے لئے ایک عدالت قائم کی جائے گی جو پارلیمنٹ کی حدود میں سماعت کرے گی اگر کوئی آفیشل توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہوا اسے تین سے چھ ماہ تک قید، پچیس ہزار روپے جرمانہ ہو گا، اوراگر وزیر توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہوا تو ایک مدت تک اس کے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کرنے پر پابندی ہوگی انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کسی کے خلاف سمن جاری کرنے کا طریقہ کار بھی طے کیا گیا ہے اور جس شخص کے خلاف سمن جاری کرنا ہو تو اس وہ علاقہ جس مجسٹریٹ کی حدود میں آتا ہے اس کی جانب سے وارنٹ یا سمن جاری کیا جائے گا اس موقع پر کمیٹی نے سفارشات کو اگلے اجلاس میں بل کی صورت میں پیش کرنے کی ہدایت

کرتے ہوئے وزارت قانون اور پارلیمانی امور کے افسران کو طلب کر لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…