جمعرات‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2026 

غلط بیانی یا ریکارڈ فراہم نہ کرنے والے سرکاری آفیسرز کو کتنی سزا ہو گی؟ وفاقی وزیروں کو بھی سزا دینے کا فیصلہ

datetime 23  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت قائمہ کمیٹیوں کے سامنے غلط بیانی یا ریکارڈ فراہم نہ کرنے کے حوالے سے توہین پارلیمنٹ بل کی سفارشات تیار کر لی گئی ہیں،بل کے مطابق کسی بھی سرکاری آفیسر کو 3سے 6ماہ تک سزا دی جاسکتی ہے جبکہ وفاقی وزیر کو بھی غلط بیانی پر سزا دی جاسکتی ہے،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے استحقاق میں پارلیمنٹ کی توہین کے بل کا

مسودہ پیش کردیا گیا یہ مسودہ کمیٹی کی ہدایت پر تیار کیا گیا اس موقع پر کمیٹی کو کنسلٹنٹ بیرسٹر راحیل نے بل پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں توہین کے حوالے سے قانون سازی موجود ہے تاہم قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سطح پر کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہے اور اس بل کے حوالے سے سفارشات تیار کی گئی ہیں جس کے مطابق اگر کوئی افسر، وزیر یا متعلقہ شخص کمیٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوتا یا کمیٹی کو دستاویزات فراہم نہیں کرتا یا جعلی دستاویز فراہم کرکے گمزاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہو گا اور توہین پارلیمنٹ کا مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج یا سیشن جج کی عدالت میں چلے گا جس کے لئے ایک عدالت قائم کی جائے گی جو پارلیمنٹ کی حدود میں سماعت کرے گی اگر کوئی آفیشل توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہوا اسے تین سے چھ ماہ تک قید، پچیس ہزار روپے جرمانہ ہو گا، اوراگر وزیر توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہوا تو ایک مدت تک اس کے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کرنے پر پابندی ہوگی انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کسی کے خلاف سمن جاری کرنے کا طریقہ کار بھی طے کیا گیا ہے اور جس شخص کے خلاف سمن جاری کرنا ہو تو اس وہ علاقہ جس مجسٹریٹ کی حدود میں آتا ہے اس کی جانب سے وارنٹ یا سمن جاری کیا جائے گا اس موقع پر کمیٹی نے سفارشات کو اگلے اجلاس میں بل کی صورت میں پیش کرنے کی ہدایت

کرتے ہوئے وزارت قانون اور پارلیمانی امور کے افسران کو طلب کر لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…