بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

غلط بیانی یا ریکارڈ فراہم نہ کرنے والے سرکاری آفیسرز کو کتنی سزا ہو گی؟ وفاقی وزیروں کو بھی سزا دینے کا فیصلہ

datetime 23  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت قائمہ کمیٹیوں کے سامنے غلط بیانی یا ریکارڈ فراہم نہ کرنے کے حوالے سے توہین پارلیمنٹ بل کی سفارشات تیار کر لی گئی ہیں،بل کے مطابق کسی بھی سرکاری آفیسر کو 3سے 6ماہ تک سزا دی جاسکتی ہے جبکہ وفاقی وزیر کو بھی غلط بیانی پر سزا دی جاسکتی ہے،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے استحقاق میں پارلیمنٹ کی توہین کے بل کا

مسودہ پیش کردیا گیا یہ مسودہ کمیٹی کی ہدایت پر تیار کیا گیا اس موقع پر کمیٹی کو کنسلٹنٹ بیرسٹر راحیل نے بل پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں توہین کے حوالے سے قانون سازی موجود ہے تاہم قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سطح پر کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہے اور اس بل کے حوالے سے سفارشات تیار کی گئی ہیں جس کے مطابق اگر کوئی افسر، وزیر یا متعلقہ شخص کمیٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوتا یا کمیٹی کو دستاویزات فراہم نہیں کرتا یا جعلی دستاویز فراہم کرکے گمزاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہو گا اور توہین پارلیمنٹ کا مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج یا سیشن جج کی عدالت میں چلے گا جس کے لئے ایک عدالت قائم کی جائے گی جو پارلیمنٹ کی حدود میں سماعت کرے گی اگر کوئی آفیشل توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہوا اسے تین سے چھ ماہ تک قید، پچیس ہزار روپے جرمانہ ہو گا، اوراگر وزیر توہین پارلیمنٹ کا مرتکب ہوا تو ایک مدت تک اس کے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کرنے پر پابندی ہوگی انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کسی کے خلاف سمن جاری کرنے کا طریقہ کار بھی طے کیا گیا ہے اور جس شخص کے خلاف سمن جاری کرنا ہو تو اس وہ علاقہ جس مجسٹریٹ کی حدود میں آتا ہے اس کی جانب سے وارنٹ یا سمن جاری کیا جائے گا اس موقع پر کمیٹی نے سفارشات کو اگلے اجلاس میں بل کی صورت میں پیش کرنے کی ہدایت

کرتے ہوئے وزارت قانون اور پارلیمانی امور کے افسران کو طلب کر لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…