ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

لگتا ہے ریکارڈ کو چوہے کھا گئے ہیں،مجھے معلوم ہے کہاں سے ریکارڈ لینا ہے ‘ چیف جسٹس ہائیکورٹ کے دوران سماعت ریمارکس

datetime 22  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی )لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی محتسب میجر (ر)اعظم سلیمان خان کی تقرری کے خلاف درخواست پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر تے ہوئے قرار دیا ہے کہ بادی النظر میں رولز بنائے بغیر صوبائی محتسب کی تقرری کر دی گئی ،آئندہ سماعت پر فیصلہ کریں گے سماعت کے لئے لارجر بنچ بنانا ہے یا دو رکنی بنچ ہی سماعت کرے گا۔

چیف جسٹس مسٹر جسٹس قاسم خان اور مسٹر جسٹس شکیل الرحمن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے وقار اے شیخ ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی ۔ فاضل بنچ نے آئندہ سماعت پر صوبائی محتسب کا سروس ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔چیف جسٹس مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ یہ جتنے مرضی جذباتی ہو جائیں ہم نے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے ،ہم صرف اللہ تعالی کو جواب دہ ہیں ۔انہوں نے نوکریاں کرنا اور شاباش لینا ہے ۔صوبائی محتسب کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے تیاری کے لیے مہلت طلب کی ۔ فاضل عدالت نے کہا کہ عدالت آئندہ سماعت پر فیصلہ کرے گی کہ اس کیس کی سماعت کے لیے لارجر بنچ بنانا ہے یا دو رکنی بنچ ہی سماعت کرے گا ۔عدالت کے روبرو میجر (ر) اعظم سلیمان اور دیگر افسران کا سروس ریکارڈ پیش نہ کیا گیا۔جس پر چیف جسٹس مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ لگتا ہے ریکارڈ کو چوہے کھا گئے ہیں،مجھے معلوم ہے کہاں سے ریکارڈ لینا ہے ،بادی النظر میں رولز بنائے بغیر صوبائی محتسب کی تقرری کر دی گئی ،آیا ہائیکورٹ کا ورکنگ جج بھی صوبائی محتسب لگ سکتا ہے اس کو کیسے لگائیں گے ۔ڈاکٹر  خالد رانجھا نے کہا کہ حاضر سروس جج صوبائی محتسب نہیں لگ سکتا ۔ عدالت نے استفسار کیا کس طرع سیشن جج حکومت پنجاب کے ماتحت  ہو سکتا ہے ۔صوبائی محتسب کس طرح اپنے اختیارات سیشن جج کو دے سکتا ہے ۔ عدالت کے روبرو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شان گل پیش ہوئے ۔فاضل عدالت نے کہا کہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ

جنرل پنجاب لکھ کر دیں کہ میجر (ر)اعظم سلیمان نے تقرری کے بعد کوئی بھرتی نہیںکی ہے ۔دوران سماعت میجر (ر)اعظم سلیمان اور حکومت پنجاب کی طرف سے جواب داخل کروا دیا گیا ،دونوں جوابات ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کے دستخطوں سے داخل کروائے گئے ۔درخواست گزارنے موقف اپنایا کہ صوبائی محتسب کی تقرری کے لیے قانون میں اہلیت موجود ہے ،میجر (ر)اعظم سلیمان اس پر

پورا نہیں اترتے ۔صوبائی محتسب کی تقرری کے لیے قانونی ڈگری رکھنا ضروری ہے ،اس تقرری کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مشاورت ضروری ہے ۔میجر (ر)اعظم سلیمان کے پاس قانون کی ڈگری موجود نہیں ،اس تقرری کے لیے چیف جسٹس ہائی کورٹ سے مشاورت  بھی نہیں لی گئی،میجر (ر)اعظم سلیمان کو عدالتی امور نمٹانے کا کوئی تجربہ نہیں ۔ استدعا ہے کہ فاضل عدالت اس تقرری کو کالعدم قرار دے اورصوبائی محتسب کی تقرری قواعد و ضوابط کے تحت کرنے کا حکم دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…