حکومت گرانے کی تیاری مکمل ، اپوزیشن جماعتوں نے طبل بجا دیا ،جنوری میں کیا ہونے جارہا ہے ؟ دھماکہ خیز اعلان

  اتوار‬‮ 20 ستمبر‬‮ 2020  |  22:23

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن جماعتوں نے جنوری میں لانگ مارچ کا فیصلہ کر لیا۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کی اے پی سی میں اگلے برس جنوری میں لانگ مارچ کا فیصلہ کیا گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے نیا سیاسی اتحاد بنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے صوبائی سطح پرریلیوں اور جلسوں کے انعقاد پر بھی اتفاق کر لیا۔متحدہ اپوزیشن نے حکومت مخالف تحریک چلانے کا متفقہ فیصلہ کرلیا ،اکتوبر کے پہلے ہفتے میں تحریک کا باقاعدہ آغاز کردیا جائے گا،


اسمبلیوں سے استعفوں، ان ہاؤس تبدیلی کے پلان پر بھی غور کیا جارہا ہے۔قبل ازیں اتوار کوآل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے رہنماؤں کے ہمرا ہ پریس کانفرنس میں چار صفحات پر مشتمل 26نکاتی قرار داد پڑھ کر دی گئی۔متحدہ اپوزیشن کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء کی جانب سے منظورہ کر دہ قرارداد میں کہاگیا ہے کہ آئین اور وفاقی پارلیمانی نظام پر یقین رکھنے والی قومی سیاسی جماعتوں کا اتحاد ”پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے نام سے تشکیل دیا گیا ہے، یہ اتحادی ڈھانچہ عوام اور غریب دشمن حکومت سے نجات کیلئے ملک گیر احتجاجی تحریک کو منظم اور مربوط انداز میں چلائیگا اور رہنمائی کریگا۔قرارداد کے مطابق اجلاس نے قرار دیا کہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت کو مصنوعی استحکام اس اسٹیبلشمنٹ نے بخشا ہے جس نے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے اسے عوام پر مسلط کیا۔ اجلاس نے اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں بڑھتے ہوئے عمل دخل پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے ملک کی سلامتی اور قومی اداروں کے لئے خطرہ قرار دیا۔اجلاس نے مطالبہ کیا اکہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں ہر قسم کی مداخلت فوری طورپر بند کرے، اسٹیبلشمنٹ کے تمام ادارے آئین کے تحت لئے گئے حلف اور اس کی متعین کر دہ حدود کی پابندی و پاسداری کرتے ہوئے سیاست میں مداخلت سے باز رہیں۔‎


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎