اسٹیبلشمنٹ سیاست میں ہر قسم کی مداخلت فوری طورپر بند کرے،فی الفور انتخابی اصلاحات ،اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو نیا نام دے دیا گیا، مسلح افواج ، ایجنسیز اور عدلیہ بارے بھی انتہائی اہم فیصلے

  اتوار‬‮ 20 ستمبر‬‮ 2020  |  22:19

اسلام آباد (این این آئی) اپوزیشن کی آل پارٹیزکانفرنس نے آئین اور وفاقی پارلیمانی نظام پر یقین رکھنے والی قومی سیاسی جماعتوں کا اتحاد ’’پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے نام تشکیل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں ہر قسم کی مداخلت فوری طورپر بند کرے ، اسٹیبلشمنٹ کے تمام ادارے آئین کے تحت لئے گئے حلف اور متعین کر دہ حدود کی پابندی و پاسداری کرتے ہوئےسیاست میں مداخلت سے باز رہیں،ملک میں شفاف ،آزادانہ ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کاانعقاد یقینی بنایا جائے اس مقصد کے حصول کیلئے فی الفور انتخابی اصلاحات کی جائیں جس


میں مسلح فوج اور ایجنسیز کا کوئی عمل دخل نہ ہو،1973ء کا آئین اٹھارہویں ترمیم اور وجودہ این ایف سی ایوارڈ قومی اتفاق رائے کامظہر ہیں ان پر حملوں کا بھرپور مقابلہ کیا جائیگا اور پوری قوت سے صوبائی خود مختاری کا تحفظ کیا جائیگا اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،منصف مزاج ، غیر جانبدار ججوں کو ریفرنسز اور بے بنیاد مقدمات کے ذریعے جکڑنے اور آئین قانون اور انصاف کے منافی فیصلے کرانے کیلئے دبائو کے ہتھکنڈے استعمال کرنے واقعات پر شدید تشویش ،یہ تمام واقعات آئین کے تحت غیر جانبدار اور آزاد عدلیہ کے تصور کیلئے سنگین دھچکا اور ملکی سلامتی کیلئے خطرناک ہیں ،عوام کے آئینی ، بنیادی ، قانونی اور انسانی حقوق کے منافی قانون سازی بلڈوز کی جارہی ہے اور اپوزیشن کی آواز دبائی جارہی ہے ، آج کے بعد ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ سے اپوزیشن کوئی تعاون نہیں کریگی،سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے ، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات ، ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کی روشنی میں احتساب کا نیا قانون بنایا جائے اور ملک کے تمام اداروں اور افراد کا خواہ ان کا تعلق عدلیہ یا ڈیفنس سروسز ، یابیورو کریسی یا پارلیمان سے ہوایک ہی قانون اورادارے کے تحت احتساب کیا جائے،یہ سلیکٹڈ حکومت سقوط کشمیر کی ذمہ دار ہے ، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں اور عالمی قانون کے منافی مودی سر کار کا عمل ، پاکستان کی موجودہ کٹھ پتلی حکمرانوں کی ملی بھگت کا شاخسانہ ہے ،نیشنل ایکشن پلان پر من وعن عمل کیا جائے،سی پیک کے منصوبوں کی رفتار کو فی الفور تیز کیا جائے ، مغربی روٹ پرموٹر وے اور ریلوے ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کیاجائے ،گلگت بلتستان میں مقررہ وقت پر صاف ، شفاف اور بغیر کسی مداخلت کے انتخابات کرائے جائیں ،قبائلی علاقہ جات کو نو گو ایریا بنادیا گیا ہے یہ سلسلہ ختم کیا جائے ،پنجاب میں آئینی و قانونی مدت کی تکمیل سے قبل ہی ختم کئے گئے بلدیاتی ادارے بحال کئے جائیں ،پاکستانی شہریوں کو مسنگ پرسن بنانے کا سلسلہ بند کیا جائےاور پہلے سے مسنگ پرسنز کو قانون کے مطابق عدلیہ کے سامنے پیش کیا جائے،آغاز حقوق بلوچستان پر عملدر آمد یقینی بنایاجائے ، بلوچستان میں سول حکمرانی کا احترام ، ایف سی کی جگہ سول اتھارٹی کو بحال کیا جائے،وتھ کمیشن بنایا جائے جو 1947سے اب تک پاکستان کی حقیقی تاریخ کو دستاویزی شکل دے،میر شکیل الرحمن سمیت تمام گرفتار صحافیوں اورمیڈیا پرسنز کو رہا کر کےمقدمات خارج کئے جائیں ،شہریوں اور میڈیا کی آزادیوں کو چھیننے کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہونے دینگے ۔ اتوار کوآل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے رہنمائوں کے ہمرا ہ پریس کانفرنس میں چار صفحات پر مشتمل 26نکاتی قرار داد پڑھ کر دی گئی ۔متحدہ اپوزیشن کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء کی جانب سے منظورہ کر دہقرارداد میں کہاگیا ہے کہ آئین اور وفاقی پارلیمانی نظام پر یقین رکھنے والی قومی سیاسی جماعتوں کا اتحاد ’’ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے نام سے تشکیل دیا گیا ہے ، یہ اتحادی ڈھانچہ عوام اور غریب دشمن حکومت سے نجات کیلئے ملک گیر احتجاجی تحریک کو منظم اور مربوط انداز میں چلائیگا اور رہنمائی کریگا ۔قرارداد کے مطابق اجلاس نے قرار دیا کہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت کومصنوعی استحکام اس اسٹیبلشمنٹ نے بخشا ہے جس نے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے اسے عوام پر مسلط کیا ۔ اجلاس نے اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں بڑھتے ہوئے عمل دخل پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے ملک کی سلامتی اور قومی اداروں کے لئے خطرہ قرار دیا ۔اجلاس نے مطالبہ کیا اکہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں ہر قسم کی مداخلت فوری طورپر بند کرے ، اسٹیبلشمنٹ کے تمام ادارےآئین کے تحت لئے گئے حلف اور اس کی متعین کر دہ حدود کی پابندی و پاسداری کرتے ہوئے سیاست میں مداخلت سے باز رہیں ۔قرار داد کے مطابق اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ملک میں شفاف ،آزادانہ ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کاانعقاد یقینی بنایا جائے اس مقصد کے حصول کیلئے فی الفور انتخابی اصلاحات کی جائیں جس میں مسلح فوج اور ایجنسیز کا کوئی عمل دخل نہ ہو ۔ قرار داد کےمطابق سلیکٹڈ حکومت کی ناکام پالیسیز کے نتیجے میں تباہ حال معیشت پاکستان کے دفاع ، ایٹمی صلاحیت اور ملک کی باوقار خود مختاری کے لئے سنگین خطرہ بن چکی ہے ۔ قرارداد میں کہاگیاکہ اجلاس اعادہ کرتا ہے کہ 1973ء کا آئین اٹھارہویں ترمیم اور وجودہ این ایف سی ایوارڈ قومی اتفاق رائے کامظہر ہیں ان پر حملوں کا بھرپور مقابلہ کیا جائیگا اور پوری قوت سے صوبائی خود مختاری کاتحفظ کیا جائیگا اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا ۔قرارداد کے مطابق یہ سلیکٹڈ حکومت سقوط کشمیر کی ذمہ دار ہے ، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں اور عالمی قانون کے منافی مودی سر کار کا عمل ، پاکستان کی موجودہ کٹھ پتلی حکمرانوں کی ملی بھگت کا شاخسانہ ہے ۔ قرار دا د کے مطابق اجلاس سلیکٹڈحکومت کی افغان پالیسی کی مکمل ناکامی پر تشدید تشویش کااظہار کرتا ہے ۔قرارداد میں کہا گیا کہ اجلاس میڈیا پر تاریخ کی بد ترین پابندیاں لگانے ، دبائو اور سینٹر شپ کے حکومتی ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کر تا ہے کہ میر شکیل الرحمن سمیت تمام دیگر گرفتار صحافیوں ، میڈیا پرسنز کو رہا کیا جائے اور ان کے خلاف غداری اور درج دیگر بے بنیاد مقدمات خارج کئےجائیں ۔ اجلاس نے عزم ظاہر کیا کہ شہریوں اور میڈیا کی آزادیوں کو چھیننے کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہونے دینگے ۔قرار داد کے مطابق اجلاس سیاسی قائدین رہنمائوں اور کارکنان کے خلاف سیاسی انتقام پر مبنی بے بنیاد اور جھوٹے مقدمات قائم کر نے ان کی گرفتاریوں اور قید و بند کی صعوبتوں کی شدید مذمت اور ان کی رہائی کا مطالبہ کرتا ہے ۔اجلاس سید خورشید شاہ اور حمزہ شہباز سمیتسیاسی انتقام کا سامنا کر نے والے تمام قائدین اور کارکنان کی جرات ، بہادری اور استقامت کو خراج تحسین پیش کرتا ہے ۔قرار داد کے مطابق اجلاس نے قرار دیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد نہیں ہوہاہے جس کی وجہ سے ملک کے اندر دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہورہاہے ، اجلاس امن وامان کی بگڑتی اور سنگین ہوتی صورتحال پر انتہائی تشویش کااظہار کرتے ہوئے قرار دیتا ہے کہموجودہ حکومت عوام کے جان ومال کے تحفظ کی بنیادی آئینی ذمہ داری ادا کر نے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔ اجلاس اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر حصوں میں حالیہ فرقہ وارانہ تنائو میں اضافے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر حکومت کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کی شدید مذمت اور گہری تشویش ظاہر کرتا ہے ۔ قرار داد کے مطابق اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ نیشنل ایکشنپلان پر من وعن عمل کیا جائے ۔قرارداد میں کہاگیاکہ سی پیک قومی معیشت کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے ، نا اہل ، کرپٹ اور نا تجربہ کار حکمرانوں نے سی پی کو رول بیک کر کے اس کا وجود ہی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ قرارداد کے مطابق اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ سی پیک کے منصوبوں کی رفتار کو فی الفور تیز کیا جائے ، مغربی روٹ پر موٹر وے اور ریلوے ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کیاجائے ۔قراراد کے مطابق سلیکٹڈ حکومت نے پارلیمان کو بے توقیر اور بے وقعت کر کے مفلوج کر دیا ہے ، عوام کے آئینی ، بنیادی ، قانونی اور انسانی حقوق کے منافی قانون سازی بلڈوز کی جارہی ہے اور اپوزیشن کی آواز دبائی جارہی ہے ، آج کے بعد ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ سے اپوزیشن کوئی تعاون نہیں کریگی ۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ غیر آئینی ، غیر جمہوری اور شہری آزادیوں کے منافی قوانینکو کالعدم کیا جائے ، میڈیکل کمیشن سمیت بلڈوز کر کے جو قانون سازی کی گئی ہے اسے واپس لیاجائے ۔قرارداد کے مطابق اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان میں مقررہ وقت پر صاف ، شفاف اور بغیر کسی مداخلت کے انتخابات کرائے جائیں ، انتخابات کے بعد قومی اتفاق رائے سے گلگت بلتستان کو قومی سیاسی دھارے میں شامل کر نے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔اجلاس قرار دیتا ہے کہگلگت بلتستان کا علاقہ بہت حساس ہے وہاں انتخابات میں ایجنسیز کی مداخلت ختم کی جائے تاکہ کوئی بھی انتخابات کی شفافیت پر اعتراض نہ اٹھا سکے ، اجلاس نے فیصلہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابی عمل پر گہری نظر رکھی جائیگی ۔قرارداد کے مطابق اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ قبائلی علاقہ جات کو نو گو ایریا بنادیا گیا ہے یہ سلسلہ ختم کیا جائے اجلاس نے خیبر پختون خوا میں نجی جیلوںکے قیام کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ان غیر قانونی نجی جیلوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے ۔اجلاس نے منصف مزاج ، غیر جانبدار ججوں کو ریفرنسز اور بے بنیاد مقدمات کے ذریعے جکڑنے اور آئین قانون اور انصاف کے منافی فیصلے کرانے کیلئے دبائو کے ہتھکنڈے استعمال کرنے واقعات پر شدید تشویش کااظہار کرتے ہوئے مذمت کی ۔اجلاسقرار دیا کہ یہ تمام واقعات آئین کے تحت غیر جانبدار اور آزاد عدلیہ کے تصور کیلئے سنگین دھچکا اور ملکی سلامتی کیلئے خطرناک ہیں ۔قرارداد کے مطابق اجلاس نے پاکستان بار کونسل کی سترہ ستمبر 2020ء کو منعقد اے پی سی میں منظور کر دہ قرار داد کی توثیق کر تے ہوئے قرار دیا کہ اعلیٰ عدلیہ کی ججوں کی تقرری کا موجودہ طریقہ کار ایک آزا د عدلیہ کی راہ میں رکاوٹہے اس ضمن میں پاکستان بار کونسل کی اے پی سی میں منظور کر دہ متفقہ قرارداد کے نکات پر عمل کیا جائے ۔قرارداد کے مطابق اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے ، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات ، ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کی روشنی میں احتساب کا نیا قانون بنایا جائے اور ملک کے تمام اداروں اور افراد کا خواہ ان کا تعلق عدلیہ یا ڈیفنس سروسز ، یابیورو کریسی یا پارلیمان سے ہوایک ہی قانون اورادارے کے تحت احتساب کیا جائے ۔قرارداد کے مطابق اجلاس نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی اطلاعات و چیئر مین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کے بارے میں سامنے آنے والی حالیہ رپورٹ کی مکمل اور شفاف تحقیقات اسی طریقہ کار کے مطابق کی جائے جو ملک کے دیگر سیاستدانوں سے متعلق اپنایا گیا ہے ، تحقیقات جبتک مکمل نہیں ہو جاتی انہیںعہدہ سے برطرف کیا جائے ۔اجلا س مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستانی شہریوں کو مسنگ پرسن بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے اور پہلے سے مسنگ پرسنز کو قانون کے مطابق عدلیہ کے سامنے پیش کیا جائے ۔قرارداد میں کہاگیاکہ اجلاس نے پنجاب میں آئینی و قانونی مدت کی تکمیل سے قبل ہی بلدیاتی ادارے ختم کر نے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انہیںفی الفور بحال کیا جائے اجلاجس ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کو مسترد کرتا ہے ۔اجلاس حکومت کی اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی جامعات کی مالی مدد کی جائے اورفیسوں میں اضافہ واپس لیاجائے ۔قرارداد کے مطابق اجلاس آغاز حقوق بلوچستان کی حمایت کااعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ اس پر عملدرآمدیقینی بنایا جائے ۔اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ بلوچستان میں سول حکمرانی کا احترام ، ایف سی کی جگہ سول اتھارٹی کو بحال کیا جائے، ہر ضلع میں ایف سی کی قائم کر دہ رکاوٹیں ختم کی جائیں ۔اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ٹروتھ کمیشن بنایا جائے جو 1947سے اب تک پاکستان کی حقیقی تاریخ کو دستاویزی شکل دے ۔قرارداد کے مطابق اجلاس نے فیصلہ کیا ہے کہ چارٹرآف پاکستان مرتب کر نے کیلئے کمیٹی بنائے جائیگی جسے یہ ذمہ داری سونپی جائیگی کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا احاطہ کر تے ہوئے ایسی ٹھوس حکمت عملی مرتب کرے جس میں بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمدعلی جناح کے ارشادات اور 1973ء کے دستور کی روشنی میں پاکستان کی جدید اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کے طورپر واضح سمت متعین ہو ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎