لاہور موٹروے کیس ! میری فیملی نے عمران خان کو تبدیلی کیلئے سپورٹ کیا اور اب ۔۔میں نے بہت بڑی قیمت چکائی ہے اور اپنی پوری زندگی اسے چکانا ہے، متاثرہ خاتون نے خاموشی توڑ دی

  جمعہ‬‮ 18 ستمبر‬‮ 2020  |  12:45

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر خاتون صحافی فریحہ ادریس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ موٹر وے کیس کی متاثرہ خاتون نے ملزموں کو پہنچاننے کی تصدیق کردی ،خاتون نے وزیراعظم عمران خان سے دونوں مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کامطالبہ کیاہے اور کہاہے کہ یہی اس کیلئے انصاف ہو گا ۔خاتون کا کہناتھا کہ پی ٹی آئی ہیوہ جماعت ہے جس نے انصاف کا وعدہ کیا لیکن انصاف اس وقت ہو گا جب سی سی پی او کے بیان کے خلاف بھی سخت اقدام اٹھایا جائے گا ۔ فریحہ ادریس کا


کہنا تھاکہ متاثر ہ خاتون کا کہناتھا کہ ان کی فیملی نے عمران خان کو تبدیلی کیلئے سپورٹ کیا ، یہ تبدیلی انصاف ہوتے ہوئے دکھائی دینی چاہے ، میں نے بہت بڑی قیمت چکائی ہے اور اپنی پوری زندگی اسے چکانا ہے ۔دوسری جانب لاہور موٹر وے کیس کا مرکزی ملزم عابد علی ملہی چوتھی مرتبہ پولیس کے ہاتھ میں آ کر پھر فرار ہونے میں کامیاب۔ اس بات کا انکشاف اس کی سالی کشور بی بی نے اپنے بیان میں کیا، اس نے بتایا کہ عابد علی ملہی پارک میں میرے ساتھ موجود تھا، اس موقع پر پولیس نے اسے پکڑنے کے لئے ہاتھ ڈالا تو وہ انہیں دھکا دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس کو ملزم عابد علی ملہی کی اس کی سالی کے گھر موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی جس پر پولیس نے تیس منٹ تاخیر سے چھاپہ مارا، اس وقت ملزم اپنی سالی کے ساتھ پارک میں موجود تھا پولیس نے اسے پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ انہیں دھکا دے کر فرار ہو گیا، سالی کشور کا کہنا تھا کہ عابد علی نے اپنے حلیہ بدل لیا ہے اس نے دھاڑی اور مونچھیں مونڈ دی ہیں۔


زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎