ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

پہلے میرا ایک بچہ تھا اب میرے تین بچے اور آٹھ کتے ہیں، سینئرپاکستانی اینکر کی تنخواہ آدھی ہوئی تو میڈیا انڈسٹری چھوڑ دی

datetime 15  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 12 اگست کو سینئر اینکر پرسن شہزاد حسن نے اچانک گورمے نیوز نیٹ ورک (جی این این) ٹی وی سے استعفی دے دیا۔ ان کے استعفے کے بارے میں کسی کو کوئی حقیقت معلوم نہیں تھی کہ انہوں نے استعفیٰ کیوں دیا، اب انہوں نے یو ٹیوب پر ناجیہ اشعر اور جنید سے بات چیت کی اور اس میں انکشاف کیا کہ انہوں نے استعفیٰ کیوں دیا، انہوں نے کہا کہ میری تنخواہ آدھی کر دی گئی،

یعنی آج سے بارہ سال پہلے جو میری تنخواہ تھی مجھے دوبارہ اس تنخواہ پر لے آئے، اس وقت میرا ایک بچہ تھا اور اب میرے تین بچے ہیں اور آٹھ کتے ہیں، دنیا میں کچھ بھی سستا نہیں ہوا، سب مہنگا ہوا ہے اور میری تنخواہ آدھی کر دی گئی۔ شہزاد حسن نے کہاکہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی سروس ان پیسوں میں نہیں بیچنا چاہتا، اس لئے میں نے نوکری چھوڑی اور اب میں سوچ رہاہوں کہ مستقبل میں کیا کرنا ہے، میں پاکستان میں رہوں گا یا نہیں رہوں گا،انہوں نے مزید کہا کہ میں کھیتی باڑی کروں گا یا ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں چلا جاؤں گا، میرے اس اچانک فیصلے کے بعد مجھے گھر جاکر امی کی ڈانٹ سننا ہے، بیوی کے مسائل سننے ہیں کہ اگلا ماہ کا خرچہ کیسے اٹھانا ہے۔انہوں نے میڈیا میں نئے آنے والوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ اور کرسکتے ہیں تو کرلیں کیونکہ میڈیا میں آئندہ پانچ سال بہت خراب ہونے والے ہیں، اور اگر کرنا بھی چاہتے ہیں تو کمر کس لیں۔انہوں نے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنایا کہ وہ میڈیا انڈسٹری میں دوبارہ نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں دو تین چینلز سے کالز آئی ہیں لیکن وہ کیمرہ کے سامنے اور پیچھے کام نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ کیمرہ بالکل چھوڑ دیا ہے، اٹھارہ سال اس فیلڈ میں گزارے ہیں، بہت انجوائے کیا اور اب میں کچھ اور کرنا چاہتا ہوں میڈیا سے میرا دور دور تک کوئی تعلق نہیں رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…