پہلے میرا ایک بچہ تھا اب میرے تین بچے اور آٹھ کتے ہیں، سینئرپاکستانی اینکر کی تنخواہ آدھی ہوئی تو میڈیا انڈسٹری چھوڑ دی

  ہفتہ‬‮ 15 اگست‬‮ 2020  |  19:51

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 12 اگست کو سینئر اینکر پرسن شہزاد حسن نے اچانک گورمے نیوز نیٹ ورک (جی این این) ٹی وی سے استعفی دے دیا۔ ان کے استعفے کے بارے میں کسی کو کوئی حقیقت معلوم نہیں تھی کہ انہوں نے استعفیٰ کیوں دیا، اب انہوں نے یو ٹیوب پر ناجیہ اشعر اور جنید سے بات چیت کی اور اس میں انکشاف کیا کہ انہوں نے استعفیٰ کیوں دیا، انہوں نے کہا کہ میری تنخواہ آدھی کر دی گئی،یعنی آج سے بارہ سال پہلے جو میری تنخواہ تھی مجھے دوبارہ اس تنخواہ پر لے آئے، اس وقت میرا


ایک بچہ تھا اور اب میرے تین بچے ہیں اور آٹھ کتے ہیں، دنیا میں کچھ بھی سستا نہیں ہوا، سب مہنگا ہوا ہے اور میری تنخواہ آدھی کر دی گئی۔ شہزاد حسن نے کہاکہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی سروس ان پیسوں میں نہیں بیچنا چاہتا، اس لئے میں نے نوکری چھوڑی اور اب میں سوچ رہاہوں کہ مستقبل میں کیا کرنا ہے، میں پاکستان میں رہوں گا یا نہیں رہوں گا،انہوں نے مزید کہا کہ میں کھیتی باڑی کروں گا یا ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں چلا جاؤں گا، میرے اس اچانک فیصلے کے بعد مجھے گھر جاکر امی کی ڈانٹ سننا ہے، بیوی کے مسائل سننے ہیں کہ اگلا ماہ کا خرچہ کیسے اٹھانا ہے۔انہوں نے میڈیا میں نئے آنے والوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ اور کرسکتے ہیں تو کرلیں کیونکہ میڈیا میں آئندہ پانچ سال بہت خراب ہونے والے ہیں، اور اگر کرنا بھی چاہتے ہیں تو کمر کس لیں۔انہوں نے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنایا کہ وہ میڈیا انڈسٹری میں دوبارہ نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں دو تین چینلز سے کالز آئی ہیں لیکن وہ کیمرہ کے سامنے اور پیچھے کام نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ کیمرہ بالکل چھوڑ دیا ہے، اٹھارہ سال اس فیلڈ میں گزارے ہیں، بہت انجوائے کیا اور اب میں کچھ اور کرنا چاہتا ہوں میڈیا سے میرا دور دور تک کوئی تعلق نہیں رہے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎