جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شہریوں نے گٹروں پر منتخب اراکین کی تصاویر لگا دیں،حیرت انگیز احتجاج

datetime 14  اگست‬‮  2020 |

فیصل آباد (این این آئی) پنجا ب کے شہر فیصل آباد کی گلیوں میں گٹر ابلنے لگے جس نے شہریوں کا جینا محال کر دیا۔فیصل آباد کے شہری علاقوں کی گلیاں کئی ماہ سے سیوریج کے پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق بدبودار پانی کی وجہ بچے اور بوڑھے گھروں میں قید ہیں ، گندگی کی وجہ سے مہمانوں نے گھروں میں آنا بھی چھوڑ دیا ہے۔شہریوں نے کہاکہ سیوریج نظام ٹھیک کرنے کوئی آتا نہیں،

علاقہ اتنا پریشان ہے کوئی کسی کو مہمان بھی نہیں بلوا سکتا ہے اور اگر کوئی مہمان آنا چاہے وہ بھی گندگی کی وجہ سے نہیں آسکتا۔ایک شہری نے بتایا کہ سیوریج کا مسئلہ کافی عرصے سے چل رہا ہے، ہمارے گھروں میں رات میں اتنا پانی جمع ہو جاتا ہے کہ بدبو آنا شروع ہو جاتی ہے، بدبو کی وجہ سے نیند نہیں آتی اور گندگی کی وجہ سے بچے بیمار بھی ہو جاتے ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق ان مشکل حالات میں منتخب نمائندے بھی غائب ہو گئے ہیں۔بدبو اور تعفن سے تنگ شہریوں نے ابلتے گٹروں پر مفرور ارکان اسمبلی کی تصاویر لگا دیں۔چیئرمین واسا کا کہنا ہے کہ سمن آباد کے علاقے میں سوریج کے مرکزی لائن بند ہونے کی وجہ سے کئی علاقوں کی گلیوں میں پانی کھڑا ہونے کی شکایات ہیں، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے واسا کی ٹیمیں کام کر رہی ہیں، جلد اس مسلے کو حل کر لیا جائے گا۔  پنجا ب کے شہر فیصل آباد کی گلیوں میں گٹر ابلنے لگے جس نے شہریوں کا جینا محال کر دیا۔فیصل آباد کے شہری علاقوں کی گلیاں کئی ماہ سے سیوریج کے پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق بدبودار پانی کی وجہ بچے اور بوڑھے گھروں میں قید ہیں ، گندگی کی وجہ سے مہمانوں نے گھروں میں آنا بھی چھوڑ دیا ہے۔شہریوں نے کہاکہ سیوریج نظام ٹھیک کرنے کوئی آتا نہیں، علاقہ اتنا پریشان ہے کوئی کسی کو مہمان بھی نہیں بلوا سکتا ہے اور اگر کوئی مہمان آنا چاہے وہ بھی گندگی کی وجہ سے نہیں آسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…