ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی رافیلوں کی شامت سابق آرمی چیف جنرل (ر)مرزا اسلم بیگ نے امریکہ کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دینے والے الخالد ٹینک کی چند ایسی خوبیاں بیان کردیں کہ آپ خوشی سے جھوم اٹھیں گے

datetime 11  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے ٹینک الخالد۔1 نے17 اگست 1988کوامریکہ کے مایہ ناز ٹینک Abraham M1A1کو عملی میدان میں شکست دے کر اپنے سفر کا آغاز کیا۔ہمارے اس ٹینک میں جرمنی کے Leopard II کا پاور پیک(انجن) فٹ کیا گیاتھا لیکن امریکی دبائومیں آکرجرمنی نے انجن کی سپلائی بند کر دی۔

پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ اپنے ایک خصوصی مضمون میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔مجبورا ہمیں یوکرائن سے ان کے ٹینک کے انجن کے لئے بات چیت کرنا پڑی اور 1996تک یوکرائن کے300 ٹینکوں کے علاوہ 400الخالد ٹینک تیار ہوکر میدان میں آچکے تھے۔اسی دوران ہمارےT-59, T-62, T-85ٹینک بھی اپ گریڈ ہو چکے تھے، متعدد خوبیوں کا حامل الضرار ٹینک بھی انہی میں سے ایک ہے۔ ہمارے ہنرمند کاری گروں نے ٹینکوں کو اپ گریڈ کرنے میں اتنی مہارت حاصل کر لی ہے کہ آج الخالد۔1 کی صورت میں یہ ہمارے سامنے ہے ۔ وہ مایہ ناز ہتھیار ہے جسے افواج کی لڑائی کا بادشاہ کہا جا تا ہے کیونکہ اس ٹینک میں اتنی خوبیاں ہیں کہ ہماری جارحانہ دفاع کی حکمت عملی کی تائید میںزمینی اور فضائی معرکے کا حسین امتزاج پیش کرتے ہوئے دور تک اہداف کو کامیابی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔اگر اس حکمت عملی کو بروئے کار لایا جائے توالخالد ٹینک کی دھاڑ اورجے ایف 17کی گھن گرج بھارت میں انبالہ تک سنائی دے گی اور جنوب میں گہرے سمندروں میں ہمارے سپر سونک کروز میزائلوں (Super Sonice Cruise Missiles) سے بچنے کے لئے بھارتی نیوی کے طیارہ بردار جہازآئی این ایس وکرامادتیا(INS Vikramaditya) کواپنی حفاظت کے لئے پناہ گاہ کی ضرورت ہوگی۔ میں کسی مبالغہ آرائی سے کام نہیں لے رہا بلکہ یہ حقیقت ہے کہ ہماری سخت جان اور آزمودہ مسلح افواج جن کا شمار دنیا کی بہترین مسلح افواج میں ہوتا ہے دشمن کو سبق سکھانے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ انہیں کراچی میں کس کام پر لگا دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ بھارت نے حال ہی میں فرانس سے رافیل طیاروں کی پہلی کھیپ حاصل کرلی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…