انجانے میں اگر کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو تو معذرت خواہ ہیں، مسجد میں ریکارڈنگ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے گلوکار بلال سعید نے عوام سے معذرت کر لی

  ہفتہ‬‮ 8 اگست‬‮ 2020  |  22:08

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد گلوکار بلال سعید بھی میدان میں آ گئے، انہوں نے کہا کہ مسجد میں صرف نکاح کے مناظر دکھائے گئے ہیں نہ کہ موسیقی یا رقص کے۔ انہوں نے عوام سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اگر پھر بھی لوگوں کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت چاہتا ہوں۔ انہوں نے اپنی ایک پوسٹ میں ویڈیو شیئر کی اور لکھا کہ یہ وہ واحد حصہ ہے جو تاریخی وزیر خان مسجد میں فلمایا گیا تھا۔یہ میوزک ویڈیو کا تعارفی حصہ ہے جس میں نکاح کا منظر پیش کیا گیا


ہے۔ اسے نہ تو کسی طرح کے پلے بیک میوزک کے ساتھ فلمایا گیا تھا اور نہ ہی یہ میوزک ٹریک کا حصہ ہے،انہوں نے کہاکہ فلم بندی کے وقت مسجد کی انتظامیہ بھی موجود تھی اور وہ گواہ ہیں کہ وہاں کسی قسم کی کوئی موسیقی نہیں چلائی گئی۔ مزید پوری ویڈیو 11 اگست کو سامنے آرہی ہے۔ آپ لوگ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے براہ کرم ویڈیو دیکھیں۔ اور سمجھیں کہ ہم سب ایک ہی صفحے پر ہیں۔ہم سب مسلمان ہیں،ہمارے دل میں بھی اپنے مذہب اسلام کے لئے اتنی ہی محبت اور احترام ہے جتنا آپ سب کے دل میں ہے اور کبھی بھی اس کی توہین کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی ٹی ایس کی ویڈیو جو سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی ہے وہ ’قبول‘ کے پوسٹر کے لیے محض ایک کلک تھا جس میں شادی شدہ جوڑے کو ان کے نکاح کے بعدخوشی سے دکھایا گیا تھا۔اس کے باوجود اگر ہم نے انجانے میں اگر کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچایا ہے تو ہم تہہ دل سے آپ سب سے معذرت خواہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد گلوکار بلال سعید بھی میدان میں آ گئے، انہوں نے کہا کہ مسجد میں صرف نکاح کے مناظر دکھائے گئے ہیں نہ کہ موسیقی یا رقص کے۔ انہوں نے عوام سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اگر پھر بھی لوگوں کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت چاہتا ہوں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎