پوری دنیا کو اس بھارتی جارحانہ سوچ کی قیمت اد اکرنا پڑسکتی ہے،عالمی برادری سے اہم مطالبہ، حکمرانوں کی کرپشن، کمیشن اور نالائقی کا ثبوت یہ بات ہے،شہباز شریف کی صدارت میں ن لیگ کے اہم فیصلے

  جمعہ‬‮ 7 اگست‬‮ 2020  |  0:13

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ پارٹی صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی صورتحال، معاشی، داخلی اور خارجی امور پر تفصیلی غور کیاگیا ۔اجلاس میں متفقہ طورپر منظور کی گئی قرار داد میں کہاگیاکہ اجلاس پارٹی رہنما افتخارالحسن شاہ ، سابق وزیر رانا افضلاورمحترمہ عظمی بخاری کے والد سید زاہد حسین بخاری کی وفات پر رنج وغم اور تعزیت کرتے ہوئے ان کی ملک وقوم اور پارٹی کے لئے خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش


کرتا ہے، وہ پارٹی کا قیمتی اثاثہ تھے۔ ان کی خدمات کو تادیر یاد رکھاجائے گا۔ اجلاس مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کے لئے صبرجمیل کی دعا کرتا ہے۔ اجلاس بھارتی انتہاء پسند بی جے پی حکومت کے پانچ صدیاں قدیم تاریخی بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے عالمی اداروں پر زور دیتی ہے کہ بھارت کے اندر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی عبادت گاہوں اور تاریخی ورثے کی حفاظت کے لئے عالمی قانون کے تحت ذمہ داریاں پوری کریں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ناقص فیصلے کے ذریعے انتہاء پسند ’آر ایس ایس‘، ’بی۔جے۔پی‘ حکومت کی مدد کی جو قابل مذمت، افسوسناک اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ اجلاس مقبوضہ جموں وکشمیر میں 5 اگست 2019کے بھارت کے غیرقانونی اقدامات کو خطے میں جنگ بھڑکانے کی چال قرار دیتا ہے اور اقوام متحدہ، سلامتی کونسل پرزور دیتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، جینیوا کنونشن سمیت عالمی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی رکوائی جائے، انسانیت کے خلاف جرائم پر بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کیاجائے اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دیاجائے۔ اجلاس زور دیتا ہے کہ او آئی سی سربراہی اجلاس بلایاجائےاور تنازعہ جموں وکشمیر پر ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیریوں کے حقوق اور ان کے منصفانہ نصب العین کے لئے عملی اقدامات کرے اور جامع حکمت عملی اپنائی جائے، کشمیر کاز کے لئے پاکستان مسلم لیگ (ن) پوری طرح پرعزم اور اس ضمن میں قومی مفادات کے حصول کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ اجلاس نے پارٹی صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی اس تجویز کی تائیدکی کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے قائدین، رہنماوں اور کارکنان کی خدمات، کاوشوں اور قربانیوں کا حکومت پاکستان اعلی ترین سطح پر اعتراف کرے اور انہیں اعزازات سے نوازا جائے۔ اجلاس حکومت پاکستان کی طرف سے بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو’نشان پاکستان‘ دینے کا دینے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ سید علی گیلانی مردآہن ہیں۔ ان کی کشمیر کاز کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ہم ان کی اور یاسین ملک سمیت دیگر حریتقائدین کی صحت یابی اور درازی عمر کے لئے دعا گو ہیں۔ ہم اہل کشمیرکو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو انتہائی جرات وبہادری سے قابض بھارتی فوج کے بدترین مظالم اوربھارت کی ریاستی دہشت گردی کامقابلہ کررہے ہیں اجلاس لائن آف کنٹرول پر بھارتی قابض فوج کی جانب سے بڑھتی ہوئی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، فائرنگ کے ذریعے عام شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہارکرتاہے۔ یہ بھارتی اقدامات جنوبی ایشیاء کے امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔ عالمی برادری نے بھارت کو جنگی جنون سے روکنے میں کردار ادا نہ کیا تو پوری دنیا کو اس بھارتی جارحانہ سوچ کی قیمت اد اکرنا پڑسکتی ہے۔ اجلاس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے پاکستان کے برادر ملک سعودی عرب کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹرٹیجک اورتاریخی تعلقات استوار ہیں۔ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ جوہری دھماکوں کے موقع پر بھی سعودی عرب نے پاکستان کی بروقت اور فراخدلانہ مدد کی تھی۔ امت مسلمہ کے اہم اور برادر ملک کے حوالے سے میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ بیان حماقت کی انتہاء￿ اور سفارتی تقاضوں اور انداز کے برعکس رویہ ہے۔ یہ انداز پاکستان کے قومی مفادات کے تقاضوں سے بھی قطعا مطابقت نہیں رکھتا۔ موجودہ حکومت سفارتی محاذ کینزاکتوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے خارجہ میدان میں ملک کو تنہا کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اجلاس افغانستان کی جانب سے باب دوستی چمن اور دیر میں پاکستانی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ اور جانی ومالی نقصانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے افغانستان حکومت پر زوردیتا ہے کہ امن کے مفاد میں مثبت ماحول پیدا کرے، پاکستان اور افغانستان برادر ہمسایہ ممالک ہیں۔ ان میں باہمی اعتماد، تعاون اور بہترین تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے کے بھیبہترین مفاد میں ہیں۔ ایسے واقعات دونوں ممالک کے عوام کے لئے باعث افسوس ہیں۔ اجلاس حکومت حکومت پر زوردیتا ہے کہ اس معاملے کو اعلی ترین سطح پر اٹھائے اور دونوں ممالک کے درمیان بہترین تعلقات کار کے لئے کوششیں کی جائیں۔ اجلاس نے ملک میں معاشی تباہی اورترقی کی شرح منفی 1.5 ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں روز افزوں ہوتی مہنگائی کی شدید مذمت کی۔ قراردیاگیا کہ موجودہ حکومت معیشت تماممحاذوں پر مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے۔ موجودہ ٹولہ نہ صرف کرپٹ ہے بلکہ نااہل اور کوتاہ نظر بھی ہے۔ عوام موجودہ ٹولے سے تنگ آچکے ہیں اور ان سے نجات چاہتے ہیں۔ اجلاس سمجھتا ہے کہ موجودہ حکومتی انتظام اگر اسی ڈگر پر یوں ہی چلتا رہا تو اس کے ملک اور عوام پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے اور خدانخواستہ ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے۔ اجلاس عوا م کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے برملا اعتراف کرتا ہے کہ خودحکومتی اعدادوشمار اس امر کا اعتراف ہے کہ دیہات اور شہروں میں مہنگائی کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ صرف جولائی کے مہینے میں مجموعی طورپر مہنگائی 9.3 فیصد بڑھی۔ دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11.5 فیصد ہوچکی ہے۔ شہری علاقوں میں خوراک15.1 فیصد اور دیہی علاقوں میں 17.8 فیصد مہنگی ہوئی ہیں۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ دیہات میں غربت کی شرح بالخصوص خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، روپے کی قدر میں مسلسل کمی، ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ، غیریقینی صورتحال، کاروباری، تاجر اور سرمایہ کار برادری کی مایوسی وپریشانی سے ملک اور قوم کے لئے مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔ چینی105 روپے کلو، آٹا75 روپے کلو جبکہ ، دالیں، گھی، سبزی، پھل، عام استعمال کی ضروری اشیاء، ادویات، علاج، تعلیم، صحت ہر چیز کے دام کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ بجلی گیس کے بلوں نے عوامکی کمر مزید توڑ دی ہے۔ عمران خان کی حکومت میں پاکستانی قوم بھوک اور افلاس کا شکار ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے دور میں خوراک کے شعبے میں افراط زر ایک فیصد تھی جو موجودہ دور میں 24 فیصد تک جاچکی ہے۔ چینی بحران کے بعد گندم اور آٹے کا بحران قوم کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے۔ چینی مافیا اور پٹرول مافیا نے قوم سے اربوں روپے لوٹ لئے۔ اب گندم اور آٹا مافیا اربوں روپے لوٹنے میں مصروف ہے۔ زرعی ملک میں گندم کیکٹائی کے بعد بحران افسوسناک اور حکمرانوں کی کرپشن، کمشن اور نالائقی کا ثبوت ہے۔ اگر چینی چوری پر وزیراعظم عمران خان ، وزیراعلی پنجاب کو کمشن کے سامنے پیش کیاجاتا اور چوروں کو سزا ملتی تو پٹرول ، گندم اور آٹے کا بحران پید انہ ہوتا۔ شواہد بتارہے ہیں کہ حکومت خود ذخیرہ اندوزی کراتی، قلت سے مہنگے داموں اپنے حواریوں کو نوازتی اور پھر کمشن بنا کر وزیراعظم کو این آر او دلاتی ہے،ملک اس وقت عملا مافیاز کیگرفت میں ہے۔ اس سوال یہ ہے کہ گندم کہاں غائب ہوگئی؟ کیا چینی کی طرح گندم کی بھی ذخیرہ اندوزی کرلی گئی ہے؟ جب پنجاب میں نیب زدہ لوگوں کو وزیر خوراک لگایاجائے گا تو پنجاب سے 60لاکھ ٹن گندم چوری ہوجانا اچنبھے کی بات نہیں۔ حکومت گندم اور چینی چوری میں ملوث ہے اور مسلسل عوام کا آٹا، چینی چوری کیاجارہا ہے۔اجلاس زراعت اور کسانوں کے لئے حالات کی سنگینی اور پریشانی کا ادراک کرتے ہوئے ملک کی 75 فیصدآبادی سے یک جہتی کا اظہار کرتا ہے۔ حکومت نے ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت اور کسانوں کو بے رحمی سے نظرانداز کیا ہے۔ ٹڈی دَل کے حملے اور دیگر وبائی وزرعی بیماریوں کے حملوں سے فصلوں واجناس و باغات کو جو نقصان پہنچا ہے، اس میں زراعت اور کسانوں کے لئے کوئی امدادی پیکج نہیں دیاجاسکا،پاکستان کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے والے جب خود بھوکے اور ضرورت مند ہیں تو حکومت ان کی مدد کرنے کوتیار نہیں جس کا فوری ازالہ کیاجائے،صنعت وحرفت، فیکٹری، دکان اور روزگار کے بعد اب زراعت اور کسان کو بھی کنگال اور بدحال کردیاگیا ہے۔ اجلاس سرکاری ملازمین کو جبری نکالنے، چھانٹیوں اور مختلف فسطائی ہتھکنڈوں سے انہیں بے روزگار کرنے کے حکومتی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور دیگر سرکاری اداورں اور کارپوریشنز کے ملازمین کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتا ہے۔ پی ٹی ڈی سی کےبعد اب ریڈیو پاکستان سے بھی ملازمین کو نکالنے کی اطلاعات گردش میں ہیں۔ حکومت نے پہلے ان کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرکے ظالمانہ اقدام کیا اور مہنگائی کے اس سمندر میں انہیں ڈوب جانے کے لئے چھوڑ دیا، پھر ان کے انکریمنٹ کا حق سلب کرلیا۔ یہ اقدامات وہ حکومت کررہی ہے جس کا دعوی ایک کروڑ نوکریاں دینے اور پچاس لاکھ گھر فراہم کرنے کا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں تاریخی بے روزگاری ہے جومسلسل بڑھ رہی ہے۔ موجودہ دور میں سماجی دباو میں کئی گناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ صورتحال یہی رہی تو عوامی لاوا پھٹ جائے گا جو ملک ومعاشرے کے لئے نیک فال نہیں ہوگی۔ حکومت ملازمین کے ساتھ مشاورت سے ان کے قانونی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے پالیسی سازی کرے۔موجودہ حکومت آئی ایم ایف کی غلامی میں ظلم کی ہر حد پھلانگ رہی ہے۔ اجلاس ملک بھر بالخصوص پنجاب میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کااظہار کرتا ہے۔ پنجاب میں سنگین جرائم ، لوٹ مار، ڈکییتوں اور قتل سمیت دیگر وارداتوں میںہوشربا اضافہ لمحہ فکریہ ہے۔ اسلام آباد سمیت ملک بھر بالخصوص پنجاب میں عوام شدید خوف وہراس اور عدم تحفظ کا شکار ہیں،اس لاقانونیت کی ایک بنیادی وجہ حکومتی عمل داری کے مسائل ہیں، فیصلہ سازی کے فقدان وابہام، پے درپے انتظامی ردوبدل اور سرکاری مشینری میں پھیلی بددلی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اجلاس پارٹی صدر اور قائد حزباختلاف شہبازشریف کی اپوزیشن جماعتوں کو قومی ایجنڈے اور حکمت عملی پر متحد ومتفق کرنے کی تائید کرتے ہوئے انہیں اختیار دیتا ہے کہ وہ ملک وقوم کو موجودہ مسائل ومشکلات سے نکالنے کے لئے مناسب فیصلے کریں۔ اجلاس کل جماعتی کانفرنس (اے۔پی۔سی) کے انعقاد کے لئے جناب شہبازشریف کی کاوشوں کو بھی سراہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تمام محب وطن، عوام ، جمہوریت اور دستور دوست قوتیں ہی ملک وقوم کو موجودہ مسائل کی دلدلسے نکال سکتی ہیں۔ عوام کا اتفاق ہوچکا ہے کہ موجودہ ٹولہ محض ملک وقوم کو لوٹنے اور کنگال بنانے آیا ہے۔ اس سے جلد ازجلد نجات سے قومی وعوامی مفادات کا تحفظ ممکن ہے۔ اجلاس سمجھتا ہے کہ سیاسی مفادات کے بجائے اس وقت قومی وعوامی مفادات کو ترجیح دینا اولین ہے۔ اجلاس میڈیا کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے چینل 24 کی بندش، مطیع اللہ جان کے اغوا، میرشکیل الرحمن کی مسلسل غیرقانونی اور سیاسی انتقام کاشاخسانہ گرفتاری، اینکرز، کالم نگاروں اور میڈیا ورکرز کو بے روزگار کرنے، سینسرشپ ، قدغنوں ودباو کے ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ اپوزیشن اور میڈیا کا مشترکہ ورکنگ گروپ بنایا جائے جو ملکی اورعالمی صحافی، انسانی حقوق کی انجمنوں کے ساتھ مل کر صورتحال کی مانیٹرنگ کرے اور اس پر رپورٹ مرتب کرے۔ اجلاس سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کے مقدمے میں پیش رفت نہ ہونے پر بھیافسوس کا اظہا رکرتا ہے اور حکومت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی دلچسپی نہ لینے پر ب ھی تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اجلاس پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے ستر سال مکمل ہونے پر مبارک دیتے ہوئے صحافی برادری کی ملک میں دستور، جمہوریت ، شہری واظہار کی آزادیوں کے لئے قربانیوں اور جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ اجلاس یقین دلاتا ہے کہ ملک میں آئینی، جمہوری اور شہری آزادیوں کے لئےجدوجہد میں ہمیشہ کی طرح صحافی برادری کے ساتھ ہیں۔ اجلاس نے ’ہیومین رائٹس واچ‘ کی حالیہ رپورٹ کو چشم حقائق پر مبنی اور نیب کے خلاف فرد جرم قرار دیا اور زور دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حکومت نیب کے ادارے اور قانون کو سیاسی مخالفین اور ناقدین کے خلاف استعمال کرنے کا سلسلہ بند کرے، اس ادارے کو بند اور قانون کو کالعدم کیاجائے۔ ملک میں شفاف، غیرجانبدار اور موثر احتساب کے لئے آئین، قانون اور ’سی، آر،پی،سی‘ کے مطابق انصاف کے تقاضوں پر مبنی نئی قانون سازی کی جائے۔ اجلاس لبنان، بیروت میںرونما ہونے والے روح فرسا واقعہ کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر لبنان کی حکومت اور عوام سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتا ہے۔ ہم دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں لبنان کی حکومت ، عوام اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎