پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کثرت رائے سے میوچل لیگل اسسٹنس بل 2020کی منظوری ، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حمایت

  جمعرات‬‮ 6 اگست‬‮ 2020  |  23:55

اسلام آباد (این این آئی)پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کثرت رائے سے میوچل لیگل اسسٹنس بل 2020کی منظوری دیدی گئی جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حمایت ،جے یو آئی ، جماعت اسلامی ، نیشنل پارٹی، پی کے میپ اور سابق فاٹا کے ارکان کیجانب سے مخالفت کی گئی ۔جمعرات کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس کے انعقاد سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیانمیوچل لیگل اسسٹنس کریمنل میٹرز بل2020 کے مسودے پر اتفاق کیا گیا جس کے بعد مشترکہ بل ایوان میں پیش کیا گیا تاہم جے یو آئی،


جماعت اسلامی، پی کے میپ، نیشنل پارٹی اور آزاد اراکین محسن داوڑ اور علی وزیر نے بل کی سخت مخالفت کی اور بل پیش کرنے اور رائے شماری کے دوران مسلسل شورشرابا کیا، وزیرداخلہ نے بل منظوری کیلئے پیش کیا، وزیرقانون فروغ نسیم نے کلاز وائز بل منظوری کیلئے پیش کیا، پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ نے اپنی ترمیم واپس لیتے ہوئے کہا کہ ہماری اکثر ترامیم مان لی گئی ہیں، مسلم لیگ ن کے محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ بل پر ہمارے تحفظات بڑی حد تک دور ہوگئے اپنی ترامیم واپس لیتا ہوں ، فروغ نسیم نے کہا کہ ہمارا پی پی پی اور ن لیگ سے اتفاق ہوا ہے، میوچل لیگل اسسٹینس بل سیاسی نوعیت کے معاملات پر لاگو نہیں ہوگا، بل پر اتفاق رائے سے کی گئی ترامیم فروغ نسیم نے منظوری کے لئے پیش کیں، اگر کوئی معاملہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کو نامنظور کیا جاسکے گا، کسی شخص کی حوالگی پاکستانی اور عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی تو اسے حوالے نہیں کیا جاسکے گا،ہر چھ ماہ بعد اتھارٹی اسمبلی اور سینٹ میں رپورٹ پیش کیا کرے گی،قانون کی ہر چھ ماہ بعد پارلیمانی نگرانی ضروری ہوگی، اس قانون کا مقصد فوجداری معاملات میں دیگر ممالک سے قانونی معاونت حاصل کرنا اور دیگر ممالک کووہی قانونی معاونت دینا ہے۔ قانون کی منظوری کے بعد پاکستان دوسرے ممالک کو قانونی معاونت فراہم کرسکے گا، بل کے مطابق سیکریٹری داخلہ کے پاس اختیارات ہوں گے کہ وہ حکومت پاکستان کی جانب سے کسی دوسرے ملک سے قانونی معاونت کیلئے درخواست بھیجنے کا اختیار، دوسرے ملک سے آئی قانونی معاونت کی درخواست کی وصولی اور اس پر عمل در آمد کا تعین کرنا، دوسرے ممالک کو شواہد کی فراہمی کی ذمہ داری،قانونی معاونت کی درخواست کے باعث دستاویزات کی سرٹیفیکیشن کرسکے گا،اس قانون کے تحت پاکستان کسی دوسرے ملک یا دوسرے ملک پاکستان سے قانونی معاونت حاصل کر سکے گا جن میں گواہوں، مشکوک افراد، قصور وار یا مجرموں کی جگہ یا ان کی شناخت کے بارے میں پوچھا جا سکے گا، دستاویزات اور شواہد کی پیشکش، کسی کیس میں تحقیقات کے لیے شواہد کی تلاش کے لیے سرچ وارنٹ کا حصول، تفتیش کے دائرہ کارمیں آنے والی جائیداد کی قرقی، تفتیش یا تحقیقات کے دوران کیس میں معاونت حاصل کرنے والے شخص کو اس کی مرضی کے ساتھ پاکستان بلایا جا سکے گا یا پاکستان سے باہر اسے دوسرے ملک بھیجا جا سکے گا، کسی شخص کے پاس موجود الیکٹرانک معلومات جو کسی کمپیوٹر میں موجود ہوں وہ بھی فراہم کی جا سکیں گی، کسی شخص کی معلومات جو کسی سروس پرووائڈر کے پاس ہوں انہیں بھی دوسرے ملک کے ساتھ شیئر کیا جا سکے گا، اس بل کے قانون بننے سے ایف اے ٹی ایف کے معاملے میں پاکستان کو فائدہ پہنچے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎