بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

30 روز میں کرپشن مقدمات کا فیصلہ ممکن نہیں، چیئرمین نیب کا سپریم کورٹ کو جواب

datetime 25  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے جمع کروائے گئے جواب میں کہا ہے کہ مقدمات میں 50، 50 گواہ بنانا قانونی مجبوری ہے، 30 روز میں کرپشن مقدمات کا فیصلہ ممکن نہیں۔عدالت عظمیٰ میں 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام، نیب کارکردگی سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کے بعد چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے جواب جمع کروا دیا۔اپنے جواب میں چیئرمین نیب نے بتایا کہ

موجودہ احتساب عدالتیں مقدمات کا بوجھ اٹھانے کیلئے ناکافی ہیں، حکومت کو کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ نیب عدالتوں کی تعداد کو بڑھایا جائے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ کئی بار حکومت کو بتایا کہ مقدمات کے بوجھ کی وجہ سے ٹرائل میں تاخیر ہورہی ہے۔عدالت عظمیٰ کی جانب سے 50، 50 گواہوں سے متعلق اٹھائے گئے سوال پر چیئر مین نیب نے جواب میں لکھا کہ 50، 50 گواہ بنانا قانونی مجبوری ہے اور کرپشن مقدمات پر 30 دن میں فیصلہ ممکن نہیں ہے۔اپنے جواب میں چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور بلوچستان میں اضافی عدالتوں کی ضرورت ہے، ہر احتساب عدالت اوسط 50 مقدمات سن رہی ہے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ عدالتوں میں تعیناتی کے لیے 120 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز نہیں تو ریٹائرڈ جج بھی تعینات ہوسکتے ہیں، اس کے علاوہ احتساب عدالتوں کے خلاف اپیلیں سننے کے لیے بھی ریٹائرڈ ججز کی خدمات لی جا سکتی ہیں۔جواب میں کہا گیا کہ نیب عدالتیں ضابطہ فوجداری پر سختی سے عمل کرتی ہیں، احتساب عدالتیں ضابطہ فوجداری پر عمل نہ کرنے کا اختیار استعمال نہیں کرتیں،انہوں نے کہا کہ ملزمان کی متفرق درخواستیں اور اعلیٰ عدلیہ کے حکم امتناع بھی کیسز کے فیصلوں میں تاخیر کی وجہ ہے جبکہ عدالتیں ضمانت کیلئے سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں پر عمل نہیں کرتیں، اس کے علاوہ ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کا طریقہ کار بھی وقت طلب ہے۔عدالت عظمیٰ میں

جمع اس جواب کے مطابق بیرون ممالک سے قانونی معاونت ملنے میں تاخیر بھی بروقت فیصلے نہ ہونے کی وجہ ہے۔جواب میں کہا گیا کہ عدالتوں کی جانب سے ‘سیاسی شخصیات’ کے لفظ کی غلط تشریح کی جاتی ہے، غلط تشریح کے باعت سیاسی شخصیات کا مطلب غیر ملکی اداروں کو سمجھانا مشکل ہوجاتا۔چیئرمین نیب کے جواب میں کہا گیا کہ رضاکارانہ رقم واپسی کا اختیار استعمال کرنے سے سپریم کورٹ روک چکی ہے، رضاکارانہ رقم واپسی کی اجازت ملے تو کئی کیسز عدالتوں تک نہیں پہنچیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…