چینی کی ذخیرہ اندوزی اور سٹے بازی کرنیوالوں کی شامت حکومت نے نیا آرڈیننس تیار کرلیا، سخت سزائوں کا تعین

  جمعرات‬‮ 16 جولائی‬‮ 2020  |  15:49

لاہور (آن لائن) پنجاب حکومت نے چینی کی ذخیرہ اندوزی اور سٹے بازی کے خاتمے کے لئے ایک نیا آرڈیننس تیار کرلیا ہے۔ جسے منظوری کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجا جائے گا اور وزیراعلیٰ پنجاب آرڈیننس کی حتمی منظوری کے لئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو بھیجیں گے۔تیار کئے گئے آرڈیننس کے مطابق اگر کوئی بھی شہری چینی کی ذخیرہ اندوزی یا سٹے بازی کا مرتکب پایا گیا تو اسے تین سال قید سزا اور ضبط کی گئی چینی کی مالیت کا 50 فیصد جرمانہ کیا جائے گا۔ آرڈیننس کے مطابق مذکورہ جرم ناقابل ضمانت قرار دیا جائے


گا جبکہ اس آرڈیننس کے تحت دی جانے والی سزا کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جائے گا۔ آرڈیننس کے مطابق چینی کا سٹاک رکھنے والا سٹاف کا مکمل ریکارڈ ڈپٹی کمشنر لاہور کو دینے کا پابند ہوگا جبکہ ڈپٹی کمشنر ضبط کیا گیا سٹاک قبضے میں لے کر بذریعہ نیلامی فروخت کرنے کا پابند ہوگا۔ آرڈیننس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خریدی گئی چینی کا سٹاک خریدار 15 روز کے اندر اٹھانے کا پابند ہوگا جبکہ ذخیرہ اندوزی اور سٹے بازی کے حوالے سے درج کئے جانے والے مقدمے کا ٹرائل 30 روز کے اندر مکمل کیا جانا لازم ہو گا۔ آرڈیننس میں چینی کے ذخیرہ اندوزوں کے سہولت کاروں کو بھی ملزم ٹھہرایا جائے گا۔ آرڈیننس کے مطابق ذخیرہ اندوزی کے مرتکب سہولت کاروں کو ایک سے چھ ماہ قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جائے گی۔


موضوعات: