ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

اٹلی کے آمر میسولینی نے علامہ صاحب سے عرض کیا ”آپ مجھے نبی اکرم کا کوئی ایسا قول (حدیث) سنائیں جو میرے لیے نیا بھی ہو اور حیران کن بھی“

datetime 12  جولائی  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آابد(مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’جے آئی ٹی ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔علامہ اقبال 1931ءمیں دوسری گول میز کانفرنس کے لیے لندن تشریف لے گئے‘ کانفرنس کے دوران اٹلی کے آمربنیٹو میسولینی نے انہیں روم آنے کی دعوت دی اور علامہ صاحب نومبر کے تیسرے ہفتے روم پہنچ گئے‘ 27 نومبر 1931ءکو دونوں کی ملاقات ہوئی۔

میسولینی سیاست سے پہلے صحافی تھا‘ وہ دانش وروں کا بہت احترام کرتا تھا۔علامہ صاحب کی فکر اس وقت تک یورپ میں متعارف ہو چکی تھی‘ جرمن اور اطالوی فلسفی انہیں پسند کرتے تھے لہٰذا میسولینی علامہ صاحب سے بڑی محبت اور احترام کے ساتھ پیش آیا‘ گھٹنے جوڑ کر ان کے سامنے بیٹھا اور دیر تک ان کی گفتگو سنتا رہا‘ علامہ صاحب کی گفتگو کا مرکزی نقطہ یورپ کا اخلاقی دیوالیہ پن تھا‘ آپ کا کہناتھا اٹلی کے لوگ اگر اپنےملک کا مقدر بدلنا چاہتے ہیں توپھر انہیں یورپی اقدار کے چنگل سے نکل کر مشرقی اخلاقیات کو اپنانا ہو گا‘ علامہ صاحب اسے ”اسلامک ویلیوز“ اور سیرت کے بارے میں بھی بتاتے رہے‘ گفتگو کے آخر میں میسولینی نے علامہ صاحب سے عرض کیا ”آپ مجھے نبی اکرم کا کوئی ایسا قول (حدیث) سنائیں جو میرے لیے نیا بھی ہو اور حیران کن بھی“ علامہ صاحب مسکرائے اور فرمایا ”ہمارے رسول کا فرمان تھا شہروں کی آبادی کو ایک حد سے نہ بڑھنے دو‘ شہر جب اس حد کو چھونے لگیں تو اس سے ذرا سے فاصلے پر نیا شہر آباد کر لو“۔میسولینی نے پوچھا ”اس میں کیا حکمت ہے؟“ علامہ صاحب نے فرمایا ”آبادی جب حد سے تجاوز کر جاتی ہے تو شہر کی معاشی طاقت کم زورہو جاتی ہے جس سے معاشی زوال آتا ہے اور اس معاشی زوال سے غیر اخلاقی سرگرمیاں جنم لینے لگتی ہیں یوں شہر رہنے کے قابل نہیں رہتے“ علامہ صاحب رکے اور فرمایا ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا‘ آبادی کی حد سے پہلے نیا شہر بسا لو تاکہ معاشرے کی اخلاقیات تباہ نہ ہوں“۔میسولینی تھوڑی دیر تک حیرت سے علامہ صاحب کی طرف دیکھتا رہا‘ پھر کھڑا ہوا اور پرجوش آواز میں بولا ”واہ کیا شان دار آئیڈیا ہے“۔ میسولینی کیوں اتنا حیران ہوا؟ کیوں کہ وہ جانتا تھا روم دنیا کا پہلا شہر تھا جس کی آبادی دس لاکھ تک پہنچی تھی جس کے بعد روم مافیاز کے کنٹرول میں چلا گیا اوریوں دنیا کی پہلی سپرپاور رومن ایمپائر ختم ہو گئی تھی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…