جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

یورپی یونین نے پی آئی اے پر پابندی کیوں لگائی، 6 پوائنٹ میں سے کون سے 1 پوائنٹ پر عمل نہیں کیا گیاجو پابندی کا باعث بنا؟ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کے خط نے حقیقت کھول دی

datetime 2  جولائی  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) یورپین یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے پر یکم جولائی سے چھ ماہ کی پابندی عائد کردی۔ اس سے چند روز قبل ہوابازی کے وزیر سرور خان نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ پی آئی اے کے ڈھائی سو کے قریب پائلٹوں کے پاس جعلی لائسنس ہیں۔ہر طرف شوروغوغا ہے کہ یہ پابندی صرف وفاقی وزیر کے بیان کی وجہ سے لگی، سوشل میڈیا پر یورپین ایجنسی کے

جاری کردہ دو صفحات پر مشتمل خط وائرل ہے جس میں واضح لکھا ہے کہ 2014ء میں ایک قانون پاس کیا گیا جس پر عملدرآمد تمام ائیر لائنز کے لئے لازمی تھا، اسی قانون کے تحت مئی 2016ء میں پی آئی اے کو مشروط لائسنس دیا گیا تاکہ وہ تین سال کے اندر اندر 6 اقداما ت پر عمل درآمد کرے۔ دو سال تک ن لیگ کی حکومت تھی اس دوران پی آئی اے نے نہ تو ان چھ نکات پر عملدرآمد کیا اور نہ ہی کوئی پیش رفت دکھائی گئی۔ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو اسے 94 ارب ڈالرز کے ساتھ ساتھ سالانہ 450 ارب روپے خسارے میں چلنے والا پی آئی اے کا ادارہ ملا جس کے صرف 9 جہاز کام کررہے تھے۔یورپی ایجنسی 2019 میں آڈٹ کیلئے پاکستان آئی۔ ریگولیشن کے چھ نکات میں سے پانچ پر عملدرآمد ہو چکا تھا لیکن چھٹے پوائنٹ پر پیشرفت نہیں ہوئی تھی اور یہ چھٹا پوائنٹ سیفٹی مینجمنٹ کے حوالے سے تھا جس میں پائلٹس کیلئے سیفٹی کے ایڈوانس امتحان کا پاس کرنا ضروری تھا۔ جب یورپی ایجنسی نے پائلٹوں کی کوالیفیکیشن اور امتحان کا طریقہ کار چیک کیا تو انہوں نے پی آئی اے کو اس پوائنٹ پر فیل کردیا۔اس پر غلام سرور کے بیان نے مزید جلتی پر تیل کا کام کیا اور پی آئی اے کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔یہ لیٹر ظاہر کرتا ہے کہ پابندی صرف وفاقی وزیر کے بیان کی وجہ سے نہیں لگی ہے بلکہ اس کی دیگر ٹھوس وجوہات بھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…