ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

بچا ہوا کھانا کس کوکھلائیں؟عامر لیاقت نے اپیل کردیا

datetime 7  اپریل‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سلام آباد (این این آئی)معروف مذہبی اسکالر اور ٹی وی میزبان و اینکر پرسن ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں لوگوں سے درخواست کی ہے کہ اپنا بچا ہوا کھانا گلی کے جانوروں کو کھلائیں تاکہ اِس مشکل گھڑی میں معصوم جانور بھوکے نہ رہیں۔گزشتہ روز معروف مذہبی اسکالر اور ٹی وی میزبان و اینکر پرسن ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے تصویر اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا

جس میں وہ لوگوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ اپنا بچا ہوا کھانا، کھانے کی ہڈیاں وغیرہ گلی کے جانوروں کو کھلائیں۔ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اسلام علیکم ناظرین عامر لیاقت حسین آپ سب سے مخاطب ہے۔اْنہوں نے کہا کہ یہاں میں نے آپ سب سے ایک بہت ہی ضروری بات کہنی تھی۔ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا کہ چونکہ اِس وقت تمام ریستوران اور شادی ہالز وغیرہ بند ہیں لیکن پہلے یہ ہوتا تھا کہ شادی ہالز اور ہوٹل وغیرہ میں جو بھی کھانا بچتا تھا وہاں کی انتظامیہ وہ کھانا رات کو ایک مخصوص مقام پر رکھ دیتی تھی تاکہ گلی کے جانور وہاں سے وہ کھانا کھالیں۔اْنہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو آپ اپنے گھر میں موجود پالتو جانوروں کا بہت زیادہ خیال رکھیں کیونکہ پالتو جانور ہماری فیملی کا ایک حصہ ہوتے ہیں اِس لیے اْن کے کھانے پینے کا خیال رکھیں۔ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا کہ ہمارے جو پالتو جانور ہوتے ہیں یہ ہماری بیماری لے تو لیں گے لیکن ہمیں اپنی بیماری نہیں دیں گے مطلب ہمیں اِن سے کوئی بیماری نہیں لگ سکتی۔اْنہوں نے کہا کہ میں مخیر حضرات سے تو کہہ کہہ کر تھک گیا ہوں اِس لیے میں عام لوگوں سے درخواست کررہا ہوں کہ آپ کے گھروں میں جو بھی کھانا بچتا ہے، ہڈیاں وغیرہ اپنی سڑک کے کونے پر ڈال دیں۔ڈاکٹر عامرلیاقت حسین نے کہا کہ رات کی تاریکی میں بہت سارے کْتے بلیاں وغیرہ سڑکوں پر گھوم رہے ہوتی ہیں اِس لیے اْن کے کھانے کا بندوبست کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اللّہ کے سامنے اِس کا بھی جواب دینا ہوگا کہ جانور کیوں بھوکے رہے۔عامر لیاقت حسین نے اپنی اِس پوسٹ کے کیپشن میں بھی تمام لوگوں سے درخواست کی کہ جانوروں کو کھانا کھلائیں یہ بھی ہماری ذمہ داری ہیں کیونکہ یہ ہمارے درمیان ہی رہتے ہیں۔‎

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…