اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

بچا ہوا کھانا کس کوکھلائیں؟عامر لیاقت نے اپیل کردیا

datetime 7  اپریل‬‮  2020 |

سلام آباد (این این آئی)معروف مذہبی اسکالر اور ٹی وی میزبان و اینکر پرسن ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں لوگوں سے درخواست کی ہے کہ اپنا بچا ہوا کھانا گلی کے جانوروں کو کھلائیں تاکہ اِس مشکل گھڑی میں معصوم جانور بھوکے نہ رہیں۔گزشتہ روز معروف مذہبی اسکالر اور ٹی وی میزبان و اینکر پرسن ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے تصویر اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا

جس میں وہ لوگوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ اپنا بچا ہوا کھانا، کھانے کی ہڈیاں وغیرہ گلی کے جانوروں کو کھلائیں۔ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اسلام علیکم ناظرین عامر لیاقت حسین آپ سب سے مخاطب ہے۔اْنہوں نے کہا کہ یہاں میں نے آپ سب سے ایک بہت ہی ضروری بات کہنی تھی۔ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا کہ چونکہ اِس وقت تمام ریستوران اور شادی ہالز وغیرہ بند ہیں لیکن پہلے یہ ہوتا تھا کہ شادی ہالز اور ہوٹل وغیرہ میں جو بھی کھانا بچتا تھا وہاں کی انتظامیہ وہ کھانا رات کو ایک مخصوص مقام پر رکھ دیتی تھی تاکہ گلی کے جانور وہاں سے وہ کھانا کھالیں۔اْنہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو آپ اپنے گھر میں موجود پالتو جانوروں کا بہت زیادہ خیال رکھیں کیونکہ پالتو جانور ہماری فیملی کا ایک حصہ ہوتے ہیں اِس لیے اْن کے کھانے پینے کا خیال رکھیں۔ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا کہ ہمارے جو پالتو جانور ہوتے ہیں یہ ہماری بیماری لے تو لیں گے لیکن ہمیں اپنی بیماری نہیں دیں گے مطلب ہمیں اِن سے کوئی بیماری نہیں لگ سکتی۔اْنہوں نے کہا کہ میں مخیر حضرات سے تو کہہ کہہ کر تھک گیا ہوں اِس لیے میں عام لوگوں سے درخواست کررہا ہوں کہ آپ کے گھروں میں جو بھی کھانا بچتا ہے، ہڈیاں وغیرہ اپنی سڑک کے کونے پر ڈال دیں۔ڈاکٹر عامرلیاقت حسین نے کہا کہ رات کی تاریکی میں بہت سارے کْتے بلیاں وغیرہ سڑکوں پر گھوم رہے ہوتی ہیں اِس لیے اْن کے کھانے کا بندوبست کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اللّہ کے سامنے اِس کا بھی جواب دینا ہوگا کہ جانور کیوں بھوکے رہے۔عامر لیاقت حسین نے اپنی اِس پوسٹ کے کیپشن میں بھی تمام لوگوں سے درخواست کی کہ جانوروں کو کھانا کھلائیں یہ بھی ہماری ذمہ داری ہیں کیونکہ یہ ہمارے درمیان ہی رہتے ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…