جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

’’کرونا کی صورت ہمیں ان گناہوں کی سزا ملی ہے جنہیں ہم گناہ سمجھتے ہی نہیں ‘‘ آٹا چینی بحران، مافیاز نے کتنے کھربوں کا کاروبار کیا ؟پاکستان کا صرف ایک ادارہ پیسہ کمانے سے پاک ہے باقی نوٹ کیساتھ ادار ے بھی کھا گئے؟ حسن نثار نے کھل کر حقیقت بیان کر دی

datetime 6  اپریل‬‮  2020 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار حسن نثار نے کہا ہے کہ آٹا چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ پر تبصرہ قبل از وقت ہوگا، پاکستان کی سیاست، سیاست بذریعہ دولت اور دولت بذریعہ سیاست کا شیطانی چکر ہے، اس ملک میں اربوں کھربوں کی ڈکیتیوں کے بعد لوگ نکل گئے ہیں اب بھی کچھ نہیں ہوگا،کراچی کی آئی ٹی فرم کے تجزیے میں عمران خان کے چہرے پر دکھ،

تشویش اور اعتماد ہونا وزیراعظم کو compliment ہے۔نجی ٹی وی پروگرام میں آٹا چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ پر حسن نثار نے کہا کہ اس پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا، پاکستان کی سیاست، سیاست بذریعہ دولت اور دولت بذریعہ سیاست کا شیطانی چکر ہے، اس ملک میں اربوں کھربوں کی ڈکیتیوں کے بعد لوگ نکل گئے ہیں اب بھی کچھ نہیں ہوگا۔دنیا میں پھیلتی کورونا وبا پر بات کرتے ہوئے حسن نثار نے کہا کہ کورونا کی صورت ہمیں ان گناہوں کی سزا ملی ہے جنہیں ہم گناہ سمجھتے ہی نہیں ہیں، ہمیں جگنوؤں، تتلیوں، گلہریوں، طوطوں، چڑیوں کی بددعا لگی ہے، ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے گدھ ختم کردیئے، پاکستان جیسے ملکوں میں گِدھ کی فارمنگ کرنا پڑرہی ہے، انسان نے اوزون کی دھجیاں اڑادی، قدرت اب تیزی سے اوزن تہہ کی مرمت کررہی ہے، انسان نے خلاء سے لے کر فضا اور سمندر تک گندے کردیئے ہیں، کورونا اس دھرتی کا ردعمل ہے، ہم نے اشرف المخلوقات ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے، پانی کے قطرے اور سمندری مخلوق ناچ رہی ہوگی کہ یہ گندی مخلوق کہاں گئی۔ حسن نثار کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کی آئی ٹی فرم کا یہ تجزیہ عمران خان کو بہت بڑا compliment ہے، ایک ایسا بندہ جس کے سر پر بائیس کروڑ مشکلات میں گھری عوام کا بوجھ ہو اس کے چہرے پر دکھ اور تشویش نہیں ہوگی تو کس کے چہرے پر ہوگی،اس صورتحال میں بھی عمران خان کے چہرے پر اعتماد ہونا خوبصورت بات ہے، کراچی کی اس آئی ٹی فرم کو اس کام پر داد دینی چاہئے۔ کورونا لاک ڈاؤن سے گھریلو جھگڑوں میں اضافہ پر حسن نثار نے کہا کہ انسان کو خود کوتلاش کرنا ہے تو تنہائی میں تلاش کرے، خلوت تنہائی اور آئسولیشن نعمتیں ہیں، ہم صرف یہ یاد رکھتے ہیں کہ کھجوریں کھانا سنت ہے لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ غارِ حرا کی تنہائی بھی سنت ہے، اس ملک میں صرف فوج ہی ایک ادارہ رہ گیا ہے باقی کھانے والے کھاگئے، انہوں نے صرف نوٹ ہی نہیں کھائے ادارے بھی کھاگئے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…