بدھ‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2025 

’’کرونا کی صورت ہمیں ان گناہوں کی سزا ملی ہے جنہیں ہم گناہ سمجھتے ہی نہیں ‘‘ آٹا چینی بحران، مافیاز نے کتنے کھربوں کا کاروبار کیا ؟پاکستان کا صرف ایک ادارہ پیسہ کمانے سے پاک ہے باقی نوٹ کیساتھ ادار ے بھی کھا گئے؟ حسن نثار نے کھل کر حقیقت بیان کر دی

datetime 6  اپریل‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار حسن نثار نے کہا ہے کہ آٹا چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ پر تبصرہ قبل از وقت ہوگا، پاکستان کی سیاست، سیاست بذریعہ دولت اور دولت بذریعہ سیاست کا شیطانی چکر ہے، اس ملک میں اربوں کھربوں کی ڈکیتیوں کے بعد لوگ نکل گئے ہیں اب بھی کچھ نہیں ہوگا،کراچی کی آئی ٹی فرم کے تجزیے میں عمران خان کے چہرے پر دکھ،

تشویش اور اعتماد ہونا وزیراعظم کو compliment ہے۔نجی ٹی وی پروگرام میں آٹا چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ پر حسن نثار نے کہا کہ اس پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا، پاکستان کی سیاست، سیاست بذریعہ دولت اور دولت بذریعہ سیاست کا شیطانی چکر ہے، اس ملک میں اربوں کھربوں کی ڈکیتیوں کے بعد لوگ نکل گئے ہیں اب بھی کچھ نہیں ہوگا۔دنیا میں پھیلتی کورونا وبا پر بات کرتے ہوئے حسن نثار نے کہا کہ کورونا کی صورت ہمیں ان گناہوں کی سزا ملی ہے جنہیں ہم گناہ سمجھتے ہی نہیں ہیں، ہمیں جگنوؤں، تتلیوں، گلہریوں، طوطوں، چڑیوں کی بددعا لگی ہے، ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے گدھ ختم کردیئے، پاکستان جیسے ملکوں میں گِدھ کی فارمنگ کرنا پڑرہی ہے، انسان نے اوزون کی دھجیاں اڑادی، قدرت اب تیزی سے اوزن تہہ کی مرمت کررہی ہے، انسان نے خلاء سے لے کر فضا اور سمندر تک گندے کردیئے ہیں، کورونا اس دھرتی کا ردعمل ہے، ہم نے اشرف المخلوقات ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے، پانی کے قطرے اور سمندری مخلوق ناچ رہی ہوگی کہ یہ گندی مخلوق کہاں گئی۔ حسن نثار کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کی آئی ٹی فرم کا یہ تجزیہ عمران خان کو بہت بڑا compliment ہے، ایک ایسا بندہ جس کے سر پر بائیس کروڑ مشکلات میں گھری عوام کا بوجھ ہو اس کے چہرے پر دکھ اور تشویش نہیں ہوگی تو کس کے چہرے پر ہوگی،اس صورتحال میں بھی عمران خان کے چہرے پر اعتماد ہونا خوبصورت بات ہے، کراچی کی اس آئی ٹی فرم کو اس کام پر داد دینی چاہئے۔ کورونا لاک ڈاؤن سے گھریلو جھگڑوں میں اضافہ پر حسن نثار نے کہا کہ انسان کو خود کوتلاش کرنا ہے تو تنہائی میں تلاش کرے، خلوت تنہائی اور آئسولیشن نعمتیں ہیں، ہم صرف یہ یاد رکھتے ہیں کہ کھجوریں کھانا سنت ہے لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ غارِ حرا کی تنہائی بھی سنت ہے، اس ملک میں صرف فوج ہی ایک ادارہ رہ گیا ہے باقی کھانے والے کھاگئے، انہوں نے صرف نوٹ ہی نہیں کھائے ادارے بھی کھاگئے۔

موضوعات:



کالم



ریکوڈک میں ایک دن


بلوچی زبان میں ریک ریتلی مٹی کو کہتے ہیں اور ڈک…

خود کو کبھی سیلف میڈنہ کہیں

’’اس کی وجہ تکبر ہے‘ ہر کام یاب انسان اپنی کام…

20 جنوری کے بعد

کل صاحب کے ساتھ طویل عرصے بعد ملاقات ہوئی‘ صاحب…

افغانستان کے حالات

آپ اگر ہزار سال پیچھے چلے جائیں تو سنٹرل ایشیا…

پہلے درویش کا قصہ

پہلا درویش سیدھا ہوا اور بولا ’’میں دفتر میں…

آپ افغانوں کو خرید نہیں سکتے

پاکستان نے یوسف رضا گیلانی اور جنرل اشفاق پرویز…

صفحہ نمبر 328

باب وڈورڈ دنیا کا مشہور رپورٹر اور مصنف ہے‘ باب…

آہ غرناطہ

غرناطہ انتہائی مصروف سیاحتی شہر ہے‘صرف الحمراء…

غرناطہ میں کرسمس

ہماری 24دسمبر کی صبح سپین کے شہر مالگا کے لیے فلائیٹ…

پیرس کی کرسمس

دنیا کے 21 شہروں میں کرسمس کی تقریبات شان دار طریقے…

صدقہ

وہ 75 سال کے ’’ بابے ‘‘ تھے‘ ان کے 80 فیصد دانت…