کرونا وائرس کا تعلق کسی مذہب یا فرقے سے جوڑنا احمقانہ پن ہو گا، پاکستان میں وینٹی لیٹرز کے حوالے سے بھی خوشخبری سنا دی گئی

  ہفتہ‬‮ 4 اپریل‬‮ 2020  |  22:49

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا تعلق کسی مذہب یا فرقے سے جوڑنا احمقانہ پن ہی ہو گا، پاکستان میں وینٹی لیٹرزکلینیکل ٹرائلز کا آغاز ہوگیا، میڈیکل انجینئرنگ میں یہ پاکستان کی بڑی پیش رفت ہے، وینٹی لیٹرز کے 2 ڈیزائن فائنل مرحلے کے لئے سلیکٹ کیے گئے۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا کہ کورونا ایک وائرس ہے اور وائرس کا کوئی نہ تو کوئی مذہب ہے، نہ مسلک ہے اور نہ شہریت ہے، یہ ایک بیماری ہے اور پوری انسانیت اس کے خلاف لڑ


رہی ہے اور پوری دنیا کے 193 یا 194ملک اس کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اس کا تعلق کسی مذہب یا فرقے سے جوڑنا احمقانہ پن ہی ہو گا۔ یہ اجتماع کا معاملہ ہے چاہے شادی کی تقریب ہو یا مذہبی تقریب ہو وہ خطرے کا باعث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا میں 80 فیصد لوگوں کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ اپنے امیون سسٹم کی وجہ سے ٹھیک ہوجاتے ہیں اور10 فیصد لوگوں کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ 10فیصد ایسے مریض ہیں جن کو وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے کرتا دھرتا بھی کہتے ہیں کہ آپ زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کریں تاکہ پتہ چلے کتنے لوگ مریض ہیں اور پھر ان کے لئے انتظامات کریں جبکہ برطانیہ اور امریکہ کے ماہرین صحت کہتے ہیں کہ بہت زیادہ ٹیسٹنگ کی ضرورت نہیں ہے اور جو لوگ زیادہ بیمار ہوتے ہیں وہ ہسپتال آتے ہیں آپ ان کا علاج کریں، کیونکہ اگر آپ بہت زیادہ ٹیسٹنگ کریں گے تو بہت لوگوں میں کرونا مثبت نکلے گا اور وہ لوگ جنہیں ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں وہ بھی ہسپتال آ جائیں گے اور آپ کا صحت کا نظام بیٹھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹیسٹنگ کٹس تیار کرکے ڈریپ کے حوالہ کر دی ہیں اور اب ڈریپ اس کے لائسنس جاری کرے گا اس کے بعد ہم اسے فراہم کریں گے۔ ا نہوں نے کہا کہ ڈریپ اپنی آزادانہ ٹیسٹنگ کرے گا اور وہ دو، تین یا چار دن لگائے گا اس کے بعد یہ کمرشل مینوفیکچرنگ میں چلی جائیں گی اور مجھے امید ہے کہ آئندہ 15روز میں ایک سے ڈیڑھ لاکھ کٹس حکومت کو دینے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی ویکسین ڈیڑھ سال سے قبل نہیں بن سکتی، جب ویکسین بنتی ہے پہلے اس کے لیبارٹری ٹیسٹ ہوتے ہیں، پھر جانوروں پر ٹیسٹ ہوتے ہیں اور اس کے بعد انسانوں پر ٹیسٹ ہوتی ہے، یہ 12سے 18ماہ سے پہلے نہیں بن سکتی۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ پاکستان میں وینٹی لیٹرزکے کلینیکل ٹرائلز کا آغاز ہوگیا، یہ ٹرائلز جناح ہسپتال لاہور، انڈس ہسپتال کراچی اور سی ایم ایچ راولپنڈی میں ہو رہے ہیں، میڈیکل انجینئرنگ میں یہ پاکستان کی بڑی پیش رفت ہے، وینٹی لیٹرز کے 2 ڈیزائن فائنل مرحلے کیلئے سلیکٹ کیے گئے۔


موضوعات: