جہانگیر ترین کیخلاف کونسے وزراء اور بیورو کریٹ کی لابی  سرگرم تھی ،انہیں اتحادی کمیٹی سے نکالنے کیلئے وزیراعظم عمران خان کو کیا کہا جاتا رہا ؟ اندر کی خبر بالآخر سامنے آگئی

  بدھ‬‮ 5 فروری‬‮ 2020  |  20:46

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ دو وفاقی وزراء اور ایک اعلیٰ ترین بیورو کریٹ نے وزیراعظم کے جہانگیر ترین کے خلاف کان بھرے گئے،تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عارف حمید بھٹی نے بتایا ہے کہ وزیراعظم کو یہ کہہ کر مس گائیڈ کیا گیا ان دو وزراء میں سے ایک کا تعلق سمندر والے شہر سے ہے ۔ وزراء اور بیورو کریٹ یہ بات کھٹکتی تھی کہوزیراعظم جہانگیر ترین کو بہت اہمیت دیتے ہیں اس لیے انہوں نے ملک کر سازش کی ہے کہ کسی طرح جہانگیر ترین کو الگ


کیا جائے ۔معروف صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ جب جہانگیر ترین کو یہ بات پتہ چلی تو انہوں نے کہا کہ میں پہلے دن سے آپ لوگوں کیساتھ چلتا آرہا ہوں ، میرا اس طرح کے معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں اور وہ بیرون ملک چلے گئے ۔ اتحادیوں کے ساتھ مذاکراتی کمیٹیوں میں آپ جس کو مرضی شامل کرلیں،ان دونوں وزراء میں سے ایک پر مبینہ طور پر کرپشن کے الزامات ہیں،انہوں نے اپنی وزارت میں ایسے لوگوں کو لگایا جو کرپٹ ہیں۔جب جہانگیر ترین ناراض ہو کر ملک سے باہر چلے گئے تووزیراعظم عمران خان نے خود ان کو ٹیلیفون کیا اور کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ مجھے مس گائیڈ کیا گیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے جہانگیر ترین کو دوبارہ واپس بلا لیا ۔ جہانگیر ترین نے واپس آتے ہی وزیراعظم عمران خان سے کہا آپ نے جو ذمہ داری مجھے سونپی تھی اس میںاگر ایک بات بھی غلط ہے تو مجھے بتائیں ، جبکہ تحریک انصاف کے میڈیا سیل ڈیل کرنے والے شخص کو بھی تبدیل کیا گیا ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈیڈ اینڈ

ارنسٹ ہیمنگ وے نوبل انعام یافتہ ادیب تھا اور یہ دہائیوں سے انسانی فکر کو متاثر کررہا ہے‘ ہم میں سے کم لوگ جانتے ہیں ہیمنگ وے نے اپنا کیریئر صحافی کی حیثیت سے شروع کیا تھا‘ یہ وار رپورٹر تھا‘ محاذ جنگ سے ڈائری لکھتا تھا اور لاکھوں لوگ اس کی تحریروں کا انتظار کرتے تھے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

ارنسٹ ہیمنگ وے نوبل انعام یافتہ ادیب تھا اور یہ دہائیوں سے انسانی فکر کو متاثر کررہا ہے‘ ہم میں سے کم لوگ جانتے ہیں ہیمنگ وے نے اپنا کیریئر صحافی کی حیثیت سے شروع کیا تھا‘ یہ وار رپورٹر تھا‘ محاذ جنگ سے ڈائری لکھتا تھا اور لاکھوں لوگ اس کی تحریروں کا انتظار کرتے تھے‘ اس ....مزید پڑھئے‎