بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

سندھ میں آئی جی تبدیل نہ ہونا، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں چار چار آئی جی تبدیل ہونا انتہائی خطرناک قرار

datetime 3  فروری‬‮  2020 |

سکھر(این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئررہنما سید خورشید احمدشاہ نے کہاہے کہ اللہ سے امید ہے کہ میرے ساتھ انصاف ہوگا، موجودہ حکومت کے باعث مہنگائی کی سونامی آئی ہے، سندھ میں آئی جی تبدیل نہ ہونا، پنجاب اور خیبرپختون خوا میں چار چار آئی جی تبدیل ہونا انتہائی خطرناک بات ہے،حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کررہی۔پیرکواحتساب عدالت سکھر میںآمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی ۔

خورشید شاہ کو این آئی سی وی ڈی اسپتال سے ایمبولینس کے ذریعے عدالت لایا گیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سید اویس شاہ اور دیگربھی موجود تھے ۔احتساب عدالت کے جج امیرمہیسر نے سید خورشیدشاہ کے جوڈیشنل ریمانڈ میں 15دن کی توسیع کرتے ہوئے انہیں دوبارہ18فروری کو پیش کرنے کا حکم دیا۔۔احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہموجودہ حکومت کے باعث مہنگائی کی سونامی آئی ہے ، سونامی تباہی کا نام ہوتا ہے اور یہ تباہی موجودہ حکمران لائے ہیں۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ عمران خان کہتے تھے کہ روزانہ 12 ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے تو اب یہ 12 ارب روپے بچ رہے ہیں، وہ کہاں جا رہے ہیں؟۔انہوں نے کہاکہ چینی، آٹا یا اور کوئی چیز ان کے دام اچانک بڑھ جاتے ہیں،چیزوں کے دام بڑھانے والا کون ہے، حکمران بتائیں،ڈالرکا بڑھنا اور روپے کی قدر گرنے کا ذمہ دار کون ہے ؟۔خورشید شاہ نے کہا کہ سندھ میں آئی جی تبدیل نہ ہونا، پنجاب اور خیبرپختون خوا میں چار چار آئی جی تبدیل ہونا انتہائی خطرناک بات ہے،ایک ملک میں دو الگ قانون ملک اور حکمرانوں کے لئے خطر ناک بات ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کررہی۔‎

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…