بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

امریکی صحافیوں کو تحقیقات میں 2 سال لگانے پر 21 توپوں کی سلامی پاکستانی اینکر کی بختاور بھٹو اور نقیب اللہ کے درمیان معاشقے کی خبر سچ ثابت ہوگئی

datetime 2  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی معروف بلاگر سنتھیا رچی نے دعویٰ کیا ہے کہصدر آصف زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو اورنقیب اللہ مسعود کے مابین معاشقہ تھا اور دونوں آپس میں خفیہ ملاقتیں بھی کیا کرتے تھے۔سینتھیا ڈی رچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر آصفہ بھٹو زرداری کی طرف سے کئے گئے ایک ٹویٹ کے جواب میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا جس کے بعد ٹویٹر پر صارفین کے

درمیان ایک لمبی بحث چھڑ گئی ۔ آصف علی زرداری کی بیٹی آصفہ بھٹو نے پی ٹی ایم کے رہنما ئوں کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ” پرامن احتجاج کوئی جرم نہیں‘‘ جس پر ردعمل دیتے ہوئے سینتھیا ڈی رچی نے کہا کہ احتجاج تو واقعی جرم نہیں مگر وہ دھرتی جس پر سیکورٹی فورسز نے امن قائم کرنے کیلئے بے حد کوششیں کی ہیں ، امریکی معروف بلاگر سینتھیا ڈی رچی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ نقیب اللہ محسود آصف علی زرداری کی بیٹی کے ساتھ ”ڈیٹنگ ”میں ملوث تھا ااور پھر اس معاملہ کو غلط رنگ دے کر ریاست کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔سینتھیا ڈی رچی کے اس ٹوئیٹ نے پیپلزپارٹی کے حامیوں کو بڑھاکایا اور لکھا کہ یہ بختاور بھٹو کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔تاہم سینتھیا ڈی رچی نے کہا ہے کہ رپورٹس کے مطابق بطور رکن لبرل جمہوری پارٹی بختاور بھٹو کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مرد کے ساتھ اپنی مرضی سے ڈیٹ مار سکتی ہیں ،سینتھیا ڈی رچی کے اس بیان کی متعدد صارفین نے تائید کی ہے۔امریکی بلاگر کا کہنا تھا کہ ان کے سابقہ ٹوئیٹس کا ہرگز مقصد بختاور بھٹو کی دل آزاری نہیں تھا بلکہ یہ کہ تحقیقاتی صحافی پی ٹی ایم کے معاملے کو انسانی حقوق کے علاوہ دوسرے زاویوں سے بھی تحقیق کریں۔ سنتھیا رچی کا مزیدکہنا تھا کہ گالی دینے کا شکریہ لیکن میں وہ پہلی نہیں ہوں جس نے یہ بات کی ہے اور نہ ہی آخری ہونگی۔میں بختاور کی شہرت کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی ،ایک لبرل پارٹی کی کارکن ہونے کی حیثیت سے وہ جس سے چاہیں معاشقہ کرسکتی ہیں یا نہیں ؟؟اس کے جواب میں معروف اینکر پرسن جمیل فاروقی کہا ہے کہ میں نے دو سال قبل اس پر ایک اسٹوری لکھی تھی ، میرے کالم نے بڑے بڑوں کو ہلا دیا تھا ، مگر رائو انوار کو کوئی فرق نہیں پڑا ۔ ان کا کہنا کہ اس معاملے پر امریکی صحافی بولیں ہیں تو اس کی میں تصدیق کرتا کہ میرے کالم میں چھپنے والی اسٹوری بالکل سچ پر مبنی تھی ۔ جمیل فاروقی نے کہا ہے کہ امریکی صحافیوں کو تحقیقات میں دو سال لگانے پر اکیس توپوں کی سلامی دینی چاہیے۔ امریکی بلاگر سینتھیا ڈی رچی نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ پی ٹی ایم کے لوگ ریاست سے کئی گنا زیادہ انسانی حقوق کی تذلیل کرتے ہیں ۔اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ریاست اور فوج کے خلاف پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی پہلے سے سوچی سمجھی سازش تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…