بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

عمران خان نے مہنگائی کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑکر مہنگا ئی کاکپ بھی اپنے نام کرلیا وفاقی ادارہ شماریات کی تفصیلات وفاقی حکومت کے منہ پرطمانچہ قرار

datetime 2  فروری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)سندھ کے وزیرزراعت اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی کے حوالے سے جاری کردہ تفصیلات وفاقی حکومت کے منہ پرطمانچہ ہیں،ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا کرنیوالے صوبوں کو کہتے ہیں کہ مہنگائی پر کنٹرول کریں،ملک میں مہنگائی کے طوفان میں روز بہ روز شدید اضافہ ہو رہا ہے،وزیرا عظم نے مہنگائی کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑکر مہنگا ئی کا

کپ بھی اپنے نام کرلیاہے۔وزیراعظم کے صوبے مہنگائی پر کنٹرول کرنے والے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سندھ کے وزیر زراعت نے کہا کہ عمران خان صوبوں میں مہنگائی کا سیلاب لاکرکہتے ہیں کہ تیرنے کا بندو بست بھی خود کریں،ادویات، سبزیاں، پھل،آٹا،دال، چینی، تیل،گیس، دودھ ہر چیز عوام کی پہنچ سے دور کردی گئی ہے۔انہوں نے کہاک ملک میں مہنگائی کے ذمہ دار وفاقی حکومت کے لاڈلے وزراء ہیں،خان صاحب کی کچن کابینہ نے پوری قوم کے کچن بند کرا دیئے ہیں،وزیراعظم کو مہنگائی میں اضافہ کرنیوالے وزراء اور افسروں کو بے نقاب کرنا چاہیے۔ اگر مہنگائی کے ذمہ داروں کو ظاہر نہ کیا گیا تو پھر وزیراعظم خود ملوث ہیں۔وزیراعظم نے مہنگائی کم کر کے عوام کو ریلیف نہ دیا تو حکومت کو گھر جانا پڑے گا۔اسماعیل راہو نے کہا کہ وفاقی ادارہ شماریات کی مہنگائی کے اعداد شمار کی  رپورٹ نے بنی گالا حکومت کی قلعی کھول دی ہے۔وزیراعظم جب بھی مہنگائی کانوٹس لیتے ہیں یا اجلاس بلاتے ہیں تو  مہنگائی مزید  بڑھ جاتی ہے۔ایسے فضول نوٹس لینا بند کریںجو اور عوام پر بوجھ بڑھا دیں۔انہوں نے کہاکہ کیا وزیراعظم نہیں جانتے کہ مہنگائی کیوں اور کس کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔وفاق منافع خوروں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کررہا۔ایک سال میں آٹا 25 فیصد،سبزیاں104 فیصد، پیاز137 فیصد، ٹماٹر 211 فیصد، آلو 111فیصد مہنگے ہوئے۔ان کا فائدہ کس کو پہنچا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ایک سال میں سب سے زیاہ چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا۔اس کا فائدہ نااہل کو پہنچاْملک میں مہنگائی میں اضافے کا اعلی عدلیہ نوٹس لے اورحکومت سے جواب مانگے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…