بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

عدالت نے نیب کو ڈائریکٹر کے ایم سی کی گرفتاری سے روک دیا گیا، اچھا تو یہ ننھی سی جان یہاں رہ گئی ، حیران کن ریمارکس

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)سندھ ہائی کورٹ نے بلدیہ عظمی کراچی کے ڈائریکٹر مسعود عالم کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو(نیب) کو 26 فروری تک ان کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔عدالتِ عالیہ نے ڈی جی نیب سے اس معاملے پر رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔سندھ ہائی کورٹ میں کے ایم سی ڈائریکٹر مسعود عالم کے خلاف نیب انکوائری کے معاملے پر عبوری ضمانت کی

درخواست پر سماعت ہوئی۔عدالت نے دورانِ سماعت ریمارکس دیئے کہ اچھا تو یہ ننھی سی جان یہاں رہ گئی ہے، کراچی سے پیسہ کما کر وہاں بھیجتے ہوں گے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مسعود عالم کے خلاف شکایت موصول ہوئی ہے، جس کی انکوائری کی منظوری کے لیے معاملہ ہیڈ کوارٹر ارسال کر دیا گیا ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مسعود عالم بہت بڑے مافیا کے فرنٹ مین ہیں۔ملزم کے وکیل نے کہا کہ مسعود عالم ملک سے باہر جا رہے تھے، امیگریشن حکام نے انہیں ایئر پورٹ پر روک لیا تھا۔چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ یہ ملک سے باہر کیا کرنے جا رہے تھے؟،ملزم کے وکیل نے کہا کہ مسعود عالم کی فیملی 25 سال سے بیرونِ ملک مقیم ہے۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اچھا تو یہ ننھی سی جان یہاں رہ گئی ہے، کراچی سے پیسہ کما کر وہاں بھیجتے ہوں گے۔ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مسعود عالم نے 2 شادیاں کر رکھی ہیں، وہاں دو تین سال میں جاتے ہیں، خدشہ ہے کہ نیب مسعود عالم کو گرفتار کر لے گا۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ نیب کو ڈائریکٹر کے ایم سی کی گرفتاری سے روکنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے درخواست گزار کی استدعا منظور کرتے ہوئے نیب کو مسعود عالم کو 26 فروری تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔عدالت نے ڈی جی نیب سے مسعود عالم سے متعلق رپورٹ بھی طلب کر لی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…