ملک دشمن عناصر کی جنرل آصف غفور کے تبادلے پر خوشی کا اظہار کرنے والوں کی نیندیں اڑ گئیں ،پاک فوج کس چیز پر کوئی کمپرومائز نہیں کرتی ؟ دوٹوک پیغام جاری

  اتوار‬‮ 19 جنوری‬‮ 2020  |  22:27

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی انور لودھی نے اپنے اپنے ٹویٹ پیغام میں لکھا ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر جتنے ملک دشمن عناصر جنرل آصف غفور کے تبادلے پر خوشی منا رہے ہیں وہ شاید بھول گئے ہیں کہ اگلے ڈی جی آئی ایس آئی پی آر کا تعلق بھی پاک فوج سے ہی ہے اور پاک فوج معیار اور تربیت پر کمپرومائز نہیں کرتی ، نئے ڈی جی بھی اچھی کارکردگی دکھائیں گے، انشااللہ ۔ دوسری جانب سینئر صحافی و تجزیہ کار صابر شاکر نے کہا ہے کہ ہر کوئی یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے اور بغلیں


بجائی جارہی ہیں کہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کوثنا بچہ سے فیس ٹو فیس ہونے کیبنا پر فارغ کیا گیا ہے لیکن ایسی خبروں اور پراپیگنڈوں میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔ اس سے پہلے ایسا ہی پروپیگنڈا عاصم باجوہ کی تبدیلی پربھی دیکھنے کو ملا تھا ۔ صابر شاکر کا کہنا تھا کہ آصف غفور کی اکتوبر میں تبدیلی ہونا تھی لیکن معاملات کے پیش نظر ایسا نہیں ہو سکا تھا ۔ فوج میں پوسٹنگ ایک معمول کی بات ہوتی ہے اور یہ پوسٹنگز مارچ تک جاری رہیں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میجر جنرل بابرافتخار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی چوائس ہیں۔اب جنرل قمر جاوید باجوہ ایک نئی ٹیم کے ساتھ کام کرینگے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎