ڈاکٹر طاہر القادری کے بیٹے حسن محی الدین اور حسین محی الدین کروڑوں کی منی لانڈرنگ میں ملوث نکلے، چونکا دینے والے انکشافات، نیب نے بڑا قدم اُٹھا لیا

  پیر‬‮ 11 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  20:29

لاہور(نیوز ڈیسک) علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے دونوں بیٹوں حسن محی الدین اور حسین محی الدین کا منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف، نیب نے علامہ طاہر القادری کے دونوں بیٹوں کے خلاف انکوائری شروع کردی ہے، حسن محی الدین اور حسین محی الدین نے نیب کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، نیب نے علامہ طاہر القادری کے دونوں صاحبزادوں کے خلاف 4.028 1 ملین منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ نیب کے ذرائع نے بتایا کہ سٹیٹ بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے نیب کو شکایت کی تھی، جس پر سٹیٹ بینک کے فنانشل


یونٹ نے 30 جون 2016ء کو نیب کوحسن محی الدین اور حسین محی الدین کی مشکوک ٹرانزیکشن سے متعلق آگاہ کیا تھا۔ اسٹیٹ بینک کی اس رپورٹ پر دونوں کے خلاف نیب نے انکوائری کا آغاز کیا تھا، لاہور نیب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حسن محی الدین اور حسین محی الدین کو 9 جون 2015ء کو سید محمود شاہ اور اکبر علی نے جوائنٹ بینک اکاؤنٹ سے14.028 ملین کی رقم جمع کرائی، یہ ساری رقم اسی روز ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی، نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ حسن محی الدین اور حسین محی الدین کو طلبی کے لیے بارہ نوٹسز بھجوائے گئے لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ دوسری جانب حکومت نے دولت مند افراد اور دیگر شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ملک گیر ٹیکس دستاویزی مہم کے لیے جامع منصوبہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔رپورٹ کے وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو 30نومبر تک تفصیلی منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے جس میں پیش کیے گئے اقدامات پر آئندہ 2 سال میں عملدرآمد کیا جائے گا۔ایک سینئر ٹیکس افسر نے کہا کہ ' دستاویزی مہم سے کاروباروں، رئیل اسٹییٹ اور انڈسٹریز سے متعلق معلوم کرنے میں مدد ملے گی'۔انہوں نے بتایا کہ ' وزیراعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اس حوالے سے مقررہ مدت میں تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے'۔3 اکتوبر کو وزیراعظم نے اعلیٰ حکام سے اجلاس میں مقامی ٹیکسز میں اضافے سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس حصول کے صحیح اقدامات اٹھانے چاہیئیں اور ان پر فوری عملدرآمد کرنا چاہیے۔ٹیکس دستاویزی مہم کے تحت مغربی ممالک کی طرح تمام کاروباری ٹرانزیکشنز کے لیے قومی شناختی کارڈ کو سوشل سیکیورٹی نمبر کے تحت تمام مقاصد کے لیے اپنانے کا فیصلہ کیا، جس کے لیے جون 2020 کی ڈیڈلائن طے کی گئی ہے۔اجلاس میں غور کیا گیا تھا کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور ڈیٹا مرتب کرنا تمام سرکاری اور نجی اداروں جیسا کہ مالیاتی اداروں اور یوٹیلیٹی کمپنیوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ساتھ ہی اجلاس میں وزارت قانون و انصاف کواسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مشاورت کے بعد ایف بی آر کے ساتھ مالیاتی ٹرانزیکشنز کی رئیل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ کو یقینی بنانے کے لیے بینکنگ قوانین میں ضروری ترامیم 31 دسمبر تک پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ 30 نومبر تک کمرشل بجلی اور گیس کنیکشنز کو فوری طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا۔ اجلاس میں ملک میں غیر منقولہ جائیدادوں کے سروے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا، اس اقدام سے ایف بی آر کو رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں موجود دولت سے متعلق جاننے میں مدد ملے گی۔وزیراعظم نے غیر منقولی جائیدادوں کے ملک گیر ڈیجیٹل سروے کی منظوری بھی دی جس کی تکمیل کے لیے 30 جون 2021 کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے۔موجودہ حکومت کے پہلے سال میں 7 لاکھ 83 ہزار 39 ٹیکس دہندگان نے ایمنسٹی سمیت مختلف اسکیمز کے تحت ایف بی آر میں ریٹرنز فائل کیے اور نئے فائلرز کی وجہ سے2 ارب 58 کروڑ روپے ریونیو جمع کیا گیا۔حکومت کے پہلے سال میں ٹیکس ریٹرن فائلرز کی مجموعی تعداد گزشتہ برس کے 15 لاکھ 14 ہزار کے مقابلے میں ٹیکس ایئر 18 میں 25 کروڑ 61 لاکھ پر پہنچ گئی جس میں ایک سال کی مدت میں 69.1 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

موضوعات:

loading...