جمعہ‬‮ ، 30 جنوری‬‮ 2026 

آپ مثالیں نبی کریمؐ کی دیتے ہیں اور خود اپنے ورکرز کو سخت سردی اور بارش میں چھوڑ کر گھر چلے جاتے ہیں، سلیم صافی کے سوال پر مولانا فضل الرحمان کا حیرت انگیز موقف سامنے آ گیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی سلیم صافی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان سے دوران انٹرویو سوال کیاکہ آپ نے لوگوں کو روڈ پر لا کر ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، انہوں نے اپنے گھر بار چھوڑ دیے ہیں یہ لوگ بارش اور سردیوں کا سامنا کر رہے ہیں لیکن آپ لوگ صرف اسمبلیوں سے بھی مستعفی نہیں ہو سکتے،

اس کا جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میرے خیال میں انہوں نے اپنے آپ کو خطرے میں نہیں ڈالا بلکہ انہوں نے ناجائز حکومت اور ناجائز الیکشن کمیشن کو خطرے میں ڈالا ہے، اس طرح پھر قومیں قربانی دیتی ہیں، کارکن قربانی دیا کرتے ہیں، نظریاتی کارکن میدان میں آتا ہے تو ایک ہدف لے کر آتا ہے، معروف صحافی نے اس دوران کہا کہ لیڈر بھی تو قربانی دیا کرتے ہیں پہلے لیڈر قربانی دیں، جس کے جواب میں مولانا صاحب نے کہا کہ لیڈر ان کے صف با صف ہیں، میں خود ذاتی طور پر کراچی سے اسلام آباد تک اپنے کارکنوں کے شانہ بہ شانہ چل کر یہاں آیا ہوں، بلوچستان کے لوگ ہمارے ساتھ ملتان میں شریک ہوئے ہیں اور جتنی بھی صوبائی قیادت ہے اور مرکزی عاملہ کے جتنے بھی رکن ہیں وہ مسلسل ان قافلوں کے ساتھ قدم بہ قدم رہے اور ابھی بھی اپنے لوگوں کے ساتھ ادھر موجود ہیں، اس موقع پر سلیم صافی نے کہا کہ جس طرح شام کو عمران خان بنی گالہ چلے جاتے تھے، آپ بھی کارکنوں کو سردی میں ٹھٹھرتا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب میرے کارکن اس بات کی شکایت نہیں کر رہے ہیں تو آپ کیوں کر رہے ہیں، آپ مجھ سے زیادہ میرے کارکنوں کے ہمدرد ہو گئے ہیں، آپ میرے کارکنوں سے زیادہ مخلص ہیں،میں آپ کا بھی ہمدرد ہوں کہ آپ عمران خان نہ بنیں، میرا کارکن جس حالت میں ہے اور میں جس حالت میں ہوں، ہم آپس میں رازی بازی ہیں آپ چھوڑیں نہ بیچ میں اس طرح اترنے کے لیے۔

سلیم صافی نے کہاکہ آپ جس طرح دین ہمیں سکھاتے ہیں جس کے غلبے کے لیے آپ جدوجہد کر رہے ہیں اس کو لانے والے نبی کریمؐ جنگ کے موقع پر ایک صحابی نے ان کو دکھایا کہ انہوں نے ایک پتھر باندھا ہوا تھا جب حضورؐ نے ان کو اپنا پیٹ دکھایا تو نبی کریمؐ نے دو پتھر باندھے ہوئے تھے، ہمارے دین میں تو لیڈر زیادہ سختی برداشت کرتے ہیں، اس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میرے خیال میں ہم سختی زیادہ برداشت کر رہے ہیں، ہم جب فیصلہ کرتے ہیں تو خود کو اپنے آپ کو محاذ پر اور فرنٹ پر سمجھتے ہیں اپنے آپ کو۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج بھی اگر گرفتار ہو گی تو سب سے پہلے میری ہوگی۔ ایک سال سے میری گرفتاری اور نظربندی کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن میں محفوظ راستے پر نہیں گیا بلکہ میں ڈٹا ہوا ہوں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…