جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

مولانا کا مارچ سیاسی معاملہ ہے فوج کا اس سے کوئی تعلق نہیں،کشمیر کے معاملے کو ٹھنڈا نہیں ہونے دیں گے،ترجمان پاک فوج نے بڑا اعلان کردیا

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

راولپنڈی(آن لائن)ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور   نے کہا ہے کہ ہم قومی سلامتی کے معاملات میں مصروف ہیں، ملکی دفاع اجازت نہیں دیتا کہ دھرنے میں کی جانے والی الزام تراشی کا جواب دیا جائے، فوج ایک غیر جانبدار ادارہ ہے جو جمہوری حکومت کا ساتھ دیتا ہے، الیکشن میں حکومت خود فوج کو بلاتی ہے تو فوج آتی ہے، ہمارا کام حکومت کے احکامات پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے، مولانا کا مارچ سیاسی معاملہ ہے فوج کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے ترجمان اور شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں کی جانے والی الزام تراشیوں اور ہرزہ سرائی پر ردعمل دیا گیا ہے۔میڈیا کو جاری  پیغام میں ترجمان پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا دھرنا ایک سیاسی معاملہ ہے اور فوج کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔چونکہ فوج اس وقت قومی سلامتی کے معاملات میں مصروف ہے، اس لیے ملک کا دفاع اجازت نہیں دیتا کہ دھرنے میں دی جانے والی الزام تراشی کا جواب دیا جائے۔ میجر جنرل آصف غفور کا مزید کہنا ہے کہ فوج نے ہمیشہ جمہوری حکومت کا ساتھ دیا ہے اور آئندہ بھی اپنی آئینی ذمے داریاں پوری کرے گی۔ حکومت کی جانب سے فوج کو جو بھی احکامات دیے جاتے ہیں، فوج ویسا ہی کرتی ہے۔ملک میں کافی عرصے سے دھرنے ہو رہے ہیں۔ 2014 کے دھرنے میں بھی فوج نے جمہوری حکومت کا ساتھ دیا تھا۔ جبکہ انتخابات میں حکومت کی درخواست پر ہی فوج سیکورٹی کے فرائض انجام دیتی ہے۔ اگر حکومت فوج کو انتخابات میں سیکورٹی کے فرائض انجام دینے کیلئے نہیں بلائے گی، تو فوج انتخابات سے دور رہے گی۔فوج کبھی بھی اپنے طور پر انتخابات کے انتظامات میں حصہ نہیں لیتی۔ فوج کا واحد کام انتخابات میں امن و امان کو برقرار رکھنا ہے اور فوج اپنی ذمے داری پوری کرتی ہے۔ اس حوالے سے آرمی چیف نے پارلیمانی رہنماوں کے اجلاس میں تجویز بھی دی تھی کہ ایک ایسی کمیٹی تشکیل دے دی جائے جو قومی معاملات پر ایک ساتھ مل کر فیصلے کرے۔

ایسا کرنے سے حکومت کو کبھی بھی انتخابات کے انتظامات کیلئے فوج کی مدد کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال کشیدہ ہے جبکہ فوج مسلسل کشمیر کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ تاہم میڈیا نے کچھ دنوں سے کشمیر کے مسئلے کو بھلا کر دھرنے پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا ہے کہ فوج کسی صورت کشمیر کے معاملے کو ٹھنڈا نہیں ہونے دے گی۔ حکومت اور فوج دونوں مشترکہ طور پر کشمیر کے معاملے

پر اپنا کام کر رہے ہیں۔کشمیر پر پاکستان کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ کرتارپور راہداری کے حوالے سے ترجمان پاک فوج نے وضاحت کی ہے کہ اس منصوبے سے پاکستان کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ پاکستان میں سکھوں کی انٹری قانون کے مطابق ہوگی۔ کرتارپور آنے والے ایسے سکھ زائرین جو بنا ویزے کے پاکستان آئیں گے، وہ صرف اور صرف کرتارپور کی حدود میں ہی رہ سکیں گے۔ انہیں کرتارپور کی حدود سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جبکہ ہم سب کو اس معاملے میں احتیاط کرنی چاہیئے اور سکھوں کے مذہبی رہنماوں کا احترام کرنا چاہیئے

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…