ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

مولانا کا پلان بی ناقابل برداشت خوفناک پلان کا علم ہوتے ہی حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے فوراً مولانا سے مذاکرات کا اعلان کیوں کرنا پڑ ا ، جانئے

datetime 30  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ دیسک)سینئر صحافی و کالم نگار سلیم صافی اپنے کالم ’’نواز شریف کی ڈیلنگ اور مولانا کا مارچ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ۔۔۔ ظاہر ہے کہ بھائی کی حیثیت سے میاں شہباز شریف اور بیٹی کی حیثیت سے مریم نواز بھی چاہتی ہیں کہ نواز شریف کی زندگی بچ جائے اور ان کا بہتر سے بہتر علاج ہو لیکن اس حوالے سے ڈیل کی باتیں سراسر جھوٹ ہیں کیونکہ اب کی بار ان سے زیادہ حکومت اور اس کے پشتی بان میاں صاحب کو

جلدازجلد بیرون ملک بھیجنا چاہتے ہیں اور ان کو راضی کرنے کے لئے ان کے ساتھ مریم نواز شریف کو بھی باہر بھیجنے کو تیار ہیں۔ حکومت یوں بھی پھنس گئی ہے کہ اب اگر حکومت خود میاں صاحب کو باہر بھجواتی ہے تو اس کے سارے بیانیے کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے اور اگر ان کو یہاں رکھتی ہے تو اس سے بھی بڑا رسک لیتی ہے۔جہاں تک مولانا کا تعلق ہے تو حیرت انگیز طور پر مولانا نے مارچ کے لئے ناقابلِ یقین حد تک اور کئی ماہ پر محیط تیاری کی لیکن حکومت نے ان کے معاملے کو سنجیدہ لیا اور نہ سیاسی حل نکالنے کی کوئی کوشش کی۔ جب انہوں نے مارچ کا اعلان کیا تب بھی حکمران اس طرف متوجہ نہ ہوئے۔ وہاں یہ سوچ تھی کہ جس طرح الیکشن کروایا گیا اور چیئرمین سینیٹ کے معاملات کا ان کو تکلیف دئیے بغیر حل نکالا گیا، اسی طرح مولانا سے بھی نمٹ لیا جائے گا لیکن جب آخری وقت پر یہ پتا چلا کہ مولانا پر تو روایتی جادو نہیں چل رہا تو حکومت حواس باختہ ہوگئی اور مارچ کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم اس دوران یہ انکشاف ہوا کہ مولانا نے پلان بی کے تحت زیادہ تیاری حکومت کی طرف سے روکے جانے کی حالت کے لئے کی ہے اور اس صورت میں پورے پاکستان کے بند ہونے اور خونریزی کا خطرہ ہے چنانچہ کمیٹی بنا کر مولانا کو اسلام آباد آنے دینے کا فیصلہ ہوا۔ مولانا نے بھی اپنے کارڈز سینے سے لگا رکھے ہیں اور حکومت نے بھی۔ حکومت نے جو تیاری کی ہے وہ صرف اور صرف انتظامی حوالوں سے کی ہے اور پورے شہر کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر لوگ مولانا کی توقع کے مطابق اور حکمرانوں کی توقع کے خلاف زیادہ آگئے تو پھر کیا ہوگا؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…