پیر‬‮ ، 02 فروری‬‮ 2026 

مولانا کا پلان بی ناقابل برداشت خوفناک پلان کا علم ہوتے ہی حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے فوراً مولانا سے مذاکرات کا اعلان کیوں کرنا پڑ ا ، جانئے

datetime 30  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ دیسک)سینئر صحافی و کالم نگار سلیم صافی اپنے کالم ’’نواز شریف کی ڈیلنگ اور مولانا کا مارچ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ۔۔۔ ظاہر ہے کہ بھائی کی حیثیت سے میاں شہباز شریف اور بیٹی کی حیثیت سے مریم نواز بھی چاہتی ہیں کہ نواز شریف کی زندگی بچ جائے اور ان کا بہتر سے بہتر علاج ہو لیکن اس حوالے سے ڈیل کی باتیں سراسر جھوٹ ہیں کیونکہ اب کی بار ان سے زیادہ حکومت اور اس کے پشتی بان میاں صاحب کو

جلدازجلد بیرون ملک بھیجنا چاہتے ہیں اور ان کو راضی کرنے کے لئے ان کے ساتھ مریم نواز شریف کو بھی باہر بھیجنے کو تیار ہیں۔ حکومت یوں بھی پھنس گئی ہے کہ اب اگر حکومت خود میاں صاحب کو باہر بھجواتی ہے تو اس کے سارے بیانیے کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے اور اگر ان کو یہاں رکھتی ہے تو اس سے بھی بڑا رسک لیتی ہے۔جہاں تک مولانا کا تعلق ہے تو حیرت انگیز طور پر مولانا نے مارچ کے لئے ناقابلِ یقین حد تک اور کئی ماہ پر محیط تیاری کی لیکن حکومت نے ان کے معاملے کو سنجیدہ لیا اور نہ سیاسی حل نکالنے کی کوئی کوشش کی۔ جب انہوں نے مارچ کا اعلان کیا تب بھی حکمران اس طرف متوجہ نہ ہوئے۔ وہاں یہ سوچ تھی کہ جس طرح الیکشن کروایا گیا اور چیئرمین سینیٹ کے معاملات کا ان کو تکلیف دئیے بغیر حل نکالا گیا، اسی طرح مولانا سے بھی نمٹ لیا جائے گا لیکن جب آخری وقت پر یہ پتا چلا کہ مولانا پر تو روایتی جادو نہیں چل رہا تو حکومت حواس باختہ ہوگئی اور مارچ کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم اس دوران یہ انکشاف ہوا کہ مولانا نے پلان بی کے تحت زیادہ تیاری حکومت کی طرف سے روکے جانے کی حالت کے لئے کی ہے اور اس صورت میں پورے پاکستان کے بند ہونے اور خونریزی کا خطرہ ہے چنانچہ کمیٹی بنا کر مولانا کو اسلام آباد آنے دینے کا فیصلہ ہوا۔ مولانا نے بھی اپنے کارڈز سینے سے لگا رکھے ہیں اور حکومت نے بھی۔ حکومت نے جو تیاری کی ہے وہ صرف اور صرف انتظامی حوالوں سے کی ہے اور پورے شہر کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر لوگ مولانا کی توقع کے مطابق اور حکمرانوں کی توقع کے خلاف زیادہ آگئے تو پھر کیا ہوگا؟

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…